رسائی کے لنکس

مارس ایٹموسفیئر اینڈ وولیٹائل ایوولوشن مشن مریخ کے بارے میں اُٹھنے والے بہت بڑے سوال کا جواب دینے میں مدد دے گا، اور یہ سوال ہے: ’’مریخ کا پانی کہاں گیا؟‘‘

مارس ایٹموسفیئر اینڈ وولیٹائل ایوولوشن (ماون) مشن ایک خودکار خلائی جہاز ہے جو مریخ کے بارے میں اُٹھنے والے بہت بڑے سوال کا جواب دینے کے لیے اس سرخ سیارے کی طرف روانہ کیا جا رہا ہے۔

یہ سوال ہے: ’’مریخ کا پانی کہاں گیا؟‘‘

سائنس دان تسلیم کرتے ہیں کہ آج سے چار ارب سال پہلے مریخ کی آب و ہوا ہماری زمین سے زیادہ مختلف نہیں تھی۔ اس پر پانی تھا اور بادل بھی ہوا کرتے تھے۔

یہ تصویر بتا رہی ہے کہ آج سے چار ارب سال پہلے مریخ ہمیں کیسا نظر آتا۔

مگر آج جب ہم مریخ کو دیکھتے ہیں تو وہ ایک ریگستان بن چکا ہے۔

ماون خلائی جہاز کا مقصد مریخ کے گرد چکر لگا کر اس کے ماحول سے متعلق اعداد و شمار اکٹھا کرنا ہے۔ ان اعداد و شمار سے سائنس دانوں کو یہ معلوم ہو گا کہ مریخ میں آب و ہوا کے حوالے سے تبدیلی کیسے آئی۔

ماون کو مریخ تک پہنچنے میں 10 ماہ لگیں گے مگر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ اپنے آلات اس سے پہلے کھول کر بہت سے اعداد و شمار اکٹھا کرنا شروع کر دے گا۔

سابق خلا نورد اور خلائی شٹل کے نامور پائلٹ جان گرینسفلڈ کہتے ہیں کہ خودکار خلائی پروازوں کے موجودہ دور میں بھی انسانی مشنز کی ضرورت بدستور موجود ہے۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں اُنھوں نے بتایا کہ ماون مشن کس طرح انسانوں کو مریخ تک لے جانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ ماون مشن کے اعداد و شمار کا موازنہ مریخ ہی کی جانب رواں ماہ روانہ کیے گئے بھارتی مشن سے حاصل ہونے والی معلومات سے کیا جائے گا۔

ماون میں نصب آلات سے متعلق معاون محقق نِک شنائیڈر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ دونوں مشنز کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر تصبرہ خلائی گاڑیوں کے اپنی منزل پر پہنچے کے بعد ہی کیا جائے گا کیوں کہ یہ بڑا ’’کٹھن‘‘ سفر ہے۔

تاہم شنائیڈر کا کہنا تھا کہ اُن کے خیال میں دو اُمور پر تعاون کے امکانات روشن ہیں، جن میں مریخ کی سطح سے انتہائی بلندی پر گیسوں کی موجودگی شامل ہے۔

’’ہائیڈروجن ایک ہلکی گیس ہے جو با آسانی انتہائی بلند سطح پر پہنچ جاتی ہے۔ ہم اس کی موجودگی ہزاروں کلومیٹر بلندی پر جانچ سکتے ہیں مگر بھارتی مشن یہ عمل اس سے بھی زیادہ بلندی پر سر انجام دے سکتا ہے ... اگر تمام چیزیں ٹھیک کام کرتی ہیں تو میں بھارتی ٹیم کے ساتھ تعاون کے امکان کا منتظر ہوں۔‘‘

شنائیڈر کا کہنا تھا کہ چونکہ ناسا اور بھارت کے مشنز کسی ایک وقت پر مریخ کے گرد الگ الگ مقامات پر موجود ہوں گے تو اس تناظر میں ایک ہی وقت دو مختلف مقامات پر اعداد و شمار اکٹھا کیے جا رہے ہوں گے جن کا آپس میں موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

ماون کے مریخ تک پہنچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ خلائی جہاز کے اڑان بھرنے کے وقت مریخ اور ہماری زمین ایک مخصوص فاصلے پر ہوں۔

جب امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن ہوا تو تو یہ لانچ سے بہت قریب تھا اور ڈھائی دن بند رہنے کے بعد ماون کی ٹیم کو اس لانچ کے لیے اُور ٹائم کام کرنا پڑا۔

اب خلائی جہاز کو پیر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1:28 پر ریاست فلوریڈا کے مقام کیپ کیناوریل میں قائم تنسیب خلا میں بھیجنے کی تیاریاں مکمل ہیں۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت پر موسم موزوں ہونے کے امکانات 60 فیصد ہیں۔
XS
SM
MD
LG