رسائی کے لنکس

بالی ووڈ کی آرٹ فلموں کے بے تاج بادشاہ اور کمرشل فلموں کے شہرہ آفاق فنکار نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان آکر بہت خوش ہیں۔ وہ نہایت خوش دلی سے کہتے ہیں کہ وہ لاہوریوں کا مخصوص طرز زندگی اور زندہ دلی سے روشناس ہونے لاہور آئے تھے۔

ان کایہ بھی کہنا ہے کہ وہ آئے تو تھے صرف ایک ہفتے کا پروگرام لے کر مگر یہاں آکر ان کا ایسا دل لگا کہ تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے ۔۔اب بھارت جارہے ہیں تو وہ بھی صرف چار پانچ دن کے لئے اور اس کے بعد جلد پاکستان لوٹ آئیں گے۔

نصیر الدین شاہ نے پاکستانی فلم ”زندہ بھاگ “سائن کی ہے جس کے ڈائریکٹر مینو اور فرجاد ہیں جبکہ پروڈیوسر ہیں مظہر زیدی۔ فلم تکمیل کے آخری مراحل میں ہے تاہم اس کے وہ حصے ابھی شوٹ ہونے باقی ہیں جن میں نصیر الدین شاہ کا کردار ہے۔ نصیر نے فلم میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایک ایجنٹ کا کردار اداکیا ہے۔

نصیرالدین شاہ کا ایک پاکستانی اخبار ”دی ایکسپریس ٹریبون “کو دیئے گئے انٹرویو میں کہنا ہے کہ” پاکستانی فلم ساز ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور انہیں لالی ووڈ کے مستقبل سے متعلق بہت سی اچھی امیدیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ انڈسٹری سے متعلق وہ پرامید نہ ہوتے تو کبھی یہاں نہ آتے۔ “

ایک ایسے وقت میں جبکہ لالی ووڈ کا کم و بیش ہر فنکار بھارتی فلموں میں کام کرنے کا خواہشمند ہے ، نصیر الدین شاہ کہتے ہیں کہ”وہ پاکستان آکر خوش ہیں، اگر سرحد عبور کرکے لاہور نہ آتا تو شاید اتنا خوش بھی نہ ہوتا۔ میرا یہاں آنے کا مقصدلاہور کی ثقافت کو دیکھنا ،سمجھتا اور اس کے مطابق اسکرپٹ پر پریکٹس کرنا تھا۔ فلم کی شوٹنگ پانچ چھ دن بعد شروع ہوگی تب میں دوبارہ یہاں آوٴں گا۔ “

نصیر الدین شاہ 2003ء میں اپنی شاندارخدمات کے عوض بھارت کا مشہور اور اعلیٰ ترین ایوارڈ” پدم بھوشن“ حاصل کرچکے ہیں ۔ فلم ”زندہ بھاگ “ کے حوالے سے نصیرالدین شاہ کا کہنا ہے کہ فلم کی کہانی کا موضوع غیرقانونی ہجرت ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں اس مسئلے سے یکسر دوچار رہیں۔ اس مسئلے کی اصل وجہ زیادہ آبادی اور ملازمتوں کے کم مواقع ہیں۔ بدقسمتی سے یہاں ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو زیادہ پیسوں کالالچ دے کر اور سنہری خواب دکھا کر غیر قانونی طور پر لوگوں کو بیرون ملک لے جاتے ہیں۔ اس فلم میں میرا کردار ایک ایجنٹ کا ہے۔ “

نصیرالدین شاہ اس سے قبل2007ء میں ریلیز ہونے والی ایک اورپاکستانی فلم ”خداکے لئے “ میں کام کرچکے ہیں جس کے فلمساز شعیب منصور تھے۔ لیکن ”زندہ بھاگ“ ان کی پہلی پاکستانی ۔۔پنجابی فلم ہوگی۔ یہ فلم دونوں زبانوں میں بن رہی ہے ۔نصیر کا کہنا ہے” فلم میں میرے زیادہ تر ڈائیلاگ پنجابی میں ہیں اور پنجابی و لاہور ی طرز سیکھنے کے لئے ہی میں مہینہ بھر پہلے پاکستان آیا تھا۔“

نصیر الدین شاہ کے علاوہ فلم کے زیادہ تر فنکار نئے ہیں تاہم وہ اس اعتبار سے لکی ہیں کہ نصیر الدین شاہ کے ساتھ کام کے دوران انہیں نصیر سے اداکاری کے گر سیکھانے کا بھرپور موقع ملا۔ فلم 2013ء میں ریلیز ہوگی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG