رسائی کے لنکس

قومی مفاد بمقابلہ صحافتی آزادی؟


'انڈیپنڈنس ایونیو' میں شعبۂ صحافت کے ماہرین، ڈاکٹر مہدی حسن، ایم ضیاء الدین اور ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی گفتگو

حالیہ دنوں میں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں قومی مفاد کی تعریف پر شروع ہونے والی بحث کیا پاکستان میں صحافتی آزادیوں کو متاثر تو نہیں کرے گی؟

اس موضوع پر 'وائس آف امریکہ - اردو' کے پروگرام 'انڈیپینڈنس ایونیو' میں انگریزی روزنامے 'ایکسپریس ٹریبیون' کے ایڈیٹر ایم ضیاء الدین کا کہنا تھا کہ پاکستان کئی وجوہات کی بنا پر ایک سیکیورٹی اسٹیٹ رہا ہے۔ ملک کا قومی مفاد کیا ہے اوردوسرے ملکوں سے تعلقات کی نوعیت کیسی ہوگی؟ یہ عموماً ملٹری اسٹیبلشمنٹ طے کرتی ہے اور ملکی ادارے اسی کی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایم ضیاءالدین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحافت نے ہمیشہ اپنا اعلٰی معیار برقرار رکھا ہے، یہاں تک کہ فوجی حکمرانوں کے دور میں بھی سچائی کا علم بلند کیا ہے۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی صحافت کا مجموعی مزاج، الیکٹرانک میڈیا کے نجی اداروں کی آمد کے بعد یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔

ضیاء الدین کا کہنا تھا کہ اخبارات کی صحافت تعلیم یافتہ افراد کے لئے کی جاتی تھی، الیکٹرانک میڈیا کی صحافت عام آدمی کے لئے کی جاتی ہے، جس کا نتیجہ صحافت کی حقیقی اقدارکی تنزلی کی صورت میں نکلا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں بھی جہاں سب سے زیادہ نوبیل انعام یافتہ لوگ ہیں اور بہترین تعلیمی ادارے ہیں، 'فاکس نیوز' سب سے زیادہ دیکھا جانے والا نیوز چینل ہے۔ پاکستان میں ابھی، ایم ضیاءالدین کے بقول، صحافت ابھی تبدیلی اور سیکھنے کے عمل سے گزر رہی ہے۔

'بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی' لاہور میں صحافت کے استاد اور انسانی حقوق کمیشن کے سابق چئیرمین ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ ایسا تاثر کہ پاکستان میں صحافت آزاد نہیں ہے، بالکل درست نہیں۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کی الیکٹرانک صحافت کسی صحافتی ضابطے کی پابند نہیں ہے۔ نیوز چینلز کی بہتات کی وجہ سے نا تجربہ کار لوگ قومی آفات، اور نازک نوعیت کے اہم معاملات کی براہ راست رپورٹنگ کرتے ہوئے صحافتی اخلاقیات کے کسی نصابی ضابطے کی پروا نہیں کرتے۔

ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 60 ہزار عام پاکستانی بھی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 38 صحافی شامل تھے۔ ان کی ہلاکت، ڈاکٹر مہدی حسن کے بقول، انتہائی افسوس ناک ہے۔ لیکن صحافی اپنے کام کی نوعیت کی وجہ سے عام آدمی کے مقابلے میں زیادہ خطرات کا شکار رہتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود صحافیوں کے کام اور کارکردگی میں بہت بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

'یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب' لاہور میں شعبہ صحافت کے سربراہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا کہنا تھا کہ صحافت کو خطرہ نوجوانوں سے نہیں، نا تجربہ کار ادارتی عملے اورمیڈیا مالکان کی کاروباری سوچ سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر ملک میں قومی مفاد کا تعین ملک کی کسی مرکزی اتھارٹی کے ہاتھ میں ہوتا ہے، یہ طے کرنا کسی صحافی کا کام نہیں کہ قومی مفاد کیا ہے اور ملک کے قومی مفاد میں کون سا سچ منظر عام پر لانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے پالیسی میکر کا رول اختیار کر لیا ہے، جس کا ناجائز فائدہ اٹھانا بالکل ممکن ہے، اور ایسا ہی پچھلے کچھ برسوں کے دوران پاکستان میں دیکھنے میں آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صحافتی اقدار کی پامالی اور معیار کی گراوٹ، صحافتی میدان میں نووارد میڈیا مالکان کا مسئلہ نہیں ہے۔ ان کے لئے نیوز چینل کھولنا دیگر کئی ذرائع آمدن میں سے ایک ہے، اور ان کی توجہ صرف اپنے حریف چینل سے دیکھنے اور سننے والی آنکھیں اور کان چھیننے پر ہے۔

اس ہفتے انسانی حقوق کے ادارے 'ایمنیسٹی انٹرنیشنل' نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں 2008ء کے بعد سے اب تک 38 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جان سے جا چکے ہیں، جن میں سے صرف ایک پاکستانی صحافی کے قاتلوں کو سزا سنائی گئی ہے۔

گزشتہ روز امریکی ادارے 'فریڈم ہاؤس' کی 2014ء کی آزادیٔ صحافت رپورٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق پاکستان میں صحافت آزاد نہیں ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ میں بھی سال 2013ء کے دوران قومی سلامتی کے امور کی رپورٹنگ کرنے والے بعض صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات ہوئے۔ 'نیو یارک ٹائمز' کے ایک صحافی پر خبر کا ذریعہ یا SOURCE جاننے کے لئے دباؤ ڈالا گیا جبکہ امریکی خبر رساں ادارے 'ایسو سی ایٹڈ پریس' کے کچھ صحافیوں کے فون ریکارڈز قبضے میں لیے گئے۔
XS
SM
MD
LG