رسائی کے لنکس

افغانستان میں استحکام، نیٹو کانفرنس کے ایجنڈے پر سرفہرست

  • آندرے ڈیننسیرا

افغان نیشنل آرمی (فائل فوٹو)

افغان نیشنل آرمی (فائل فوٹو)

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شکاگو کی سربراہ کانفرنس میں نیٹو کے اس فیصلے کا اعادہ کیا جائے گا کہ 2014ء تک تمام لڑاکا فوجی نکال لیے جائیں، جب کہ بقیہ فوجی افغان عوام کے ساتھ طویل مدت کی شراکت داری سے وابستہ رہیں گے۔

شکاگو میں 20 اور21 مئی کو جب نیٹو کے 28 ملکوں کی سربراہ کانفرنس ہو گی تو افغانستان اس کے ایجنڈے میں سرِ فہرست ہو گا۔

نیٹو 2003ء سے افغانستان میں سر گرم عمل ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تفویض کردہ اختیار کے مطابق اس کے ایک لاکھ 30 ہزار فوجی جنہیں انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس یا (ایساف) کہا جاتا ہے وہاں کام کر رہے ہیں۔

ایساف کا خاص مقصد سکیورٹی اور استحکام قائم کرنے میں افغان حکام کی مدد کرنا ہے تا کہ وہاں تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کے لیے ساز گار حالات پیدا ہو سکیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شکاگو کی سربراہ کانفرنس میں نیٹو کے اس فیصلے کا اعادہ کیا جائے گا کہ 2014ء تک تمام لڑاکا فوجی نکال لیے جائیں، جب کہ بقیہ فوجی افغان عوام کے ساتھ طویل مدت کی شراکت داری سے وابستہ رہیں گے۔

اوہیو ویسلین یونیورسٹی میں نیٹو کے امور کے ماہر سین کے کہتے ہیں کہ ’’اگر آپ نیٹو کے ملکوں کی داخلی سیاست پر نظر ڈالیں، وہ چاہے فرانس ہو یا امریکہ جہاں اس جنگ کے لیے عوامی حمایت میں بتدریج کمی آئی ہے تو یہ بات بالکل واضح ہو جائے کہ یہ جنگ کدھر جا رہی ہے۔ لہٰذا اب نیٹو کے سامنے سوال یہ ہے کہ ملک سے بتدریج اور ذمہ دارانہ انداز سے کیسے نکلا جائے کہ افغانستان کے لوگوں کو کم از کم یہ موقع مل جائے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ اس عمل میں انہیں مسلسل امداد تو ملتی رہے گی لیکن ذمہ داری افغانوں پر ہو گی۔‘‘

سین کہتے ہیں کہ افغانستان سے 2014ء میں نکلنے کی تاریخ پر ڈٹے رہنا انتہائی اہم ہے۔

’’وقت کی یہ حد مقرر کرنا انتہائی ضروری ہے تا کہ کرزئی حکومت کو اور افغانستان میں دوسرے لوگوں کو یہ پیغام مل سکے کہ وہ ہمیشہ امریکہ پر تکیہ نہیں کر سکتے۔ انہیں اپنے ملک کی ذمہ داری خود اٹھانی ہے۔ لہٰذا مستقبل میں ہمارا جو بھی رول ہو، وہ آج کل کے مقابلے میں بہت کم ہو گا اور بڑی حد تک مدد دینے والے کا ہوگا، اور اس کے ساتھ ہی ہم حسبِ ِ ضرورت، انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت برقرار رکھیں گے۔‘‘

فرانس کے نو منتخب صدر فرانسواں اولان

فرانس کے نو منتخب صدر فرانسواں اولان

افغانستان میں نیٹو کا عام اصول یہ رہا ہے کہ ہم ایک ساتھ آئے ہیں اور ایک ساتھ ہی رخصت ہوں گے۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نیٹو کو اب ایک مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سین کہتے ہیں کہ نیٹو کے عہدے داروں کو سربراہ کانفرنس میں فرانس کے نو منتخب صدر فرانسواں اولان کو اس بات پر آمادہ کرنا پڑے گا کہ انھوں نے اپنی صدارتی مہم میں وعدہ تو ضرور کیا تھا لیکن انہیں چاہیئے کہ وہ فرانس کے 3,300 سپاہیوں کو اس سال کے آخر تک افغانستان سے نہ نکالیں۔

’’اگر اتحادی اپنی جان چھڑانا شروع کر دیں گے، تو اس سے جنگ کے خطرے کے بارے میں امریکہ کے لیے اپنا وعدہ پورا کرنا مشکل ہو جائے گا کیوں کہ اگر اتحادی الگ ہوئے تو پھر سارا بوجھ اکیلے امریکہ پر آن پڑ ے گا اور یہ بات امریکی عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو گی۔‘‘

کونسل آن فارن ریلیشنز میں نیٹو کے ماہر چارلس کپچان فرانس کے فیصلے سے پیدا ہونے والے مضمرات پر نظر ڈالتے ہیں۔

’’اگر فرانسیسی فوجیں چلی جاتی ہیں تو کیا نیٹو کا مشن فوری طور پر ختم ہو جائے گا؟ نہیں، ایسا نہیں ہو گا۔ کیا اس سے غلط پیغام ملے گا کہ نیٹو اتحاد قبل از وقت ٹوٹ پھوٹ رہا ہے ؟ جی ہاں، یہ تاثر ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اولاندے پر اپنے موقف میں اعتدال لانے کے لیے دباؤ پڑے گا۔‘‘

چارلس کے خیال میں اس مسئلے کا ایک حل موجود ہے۔

’’میرا اندازہ یہ ہے کہ مصالحت کی کوئی صورت نکل آئے گی اور اولاندے کچھ فرانسیسی فوجیں نکال لیں گے۔ اولاندے فرانسیسی دستے کے لیے اس مشن کے مقصد میں کچھ تبدیلی کر سکتے ہیں کہ فرانسیسی پہلے جیسی جنگی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی، وہ 2014ء تک افغانستان میں فرانس کا مشن کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھیں گے۔‘‘

چارلس اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ افغانستان کی صورت حال کو صرف نیٹو کی تنظیم مستحکم نہیں کر سکتی ۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کو صدر حامد کرزئی کی حکومت کو اقتصادی اور مالی امداد فراہم کرنی چاہیئے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ دنیا کے صنعتی ملکوں میں آج کل جو حالات ہیں ان کی وجہ سے وسائل کی شدید قلت ہے۔

XS
SM
MD
LG