رسائی کے لنکس

نیٹو کے سکریٹری جنرل ژاں اسٹولٹن برگ نے منگل کے روز بتایا کہ اپنے ’رِزولوٹ سَپورٹ مشن‘ کے حصے کے طور پر، اتحاد اندازاً 12000 فوجی فراہم کرنے کا وعدہ پورا کرے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ عدد افغانستان میں نیٹو فوج کی موجودہ نفری جاری رکھنے کے عین مطابق ہے

نیٹو کا کہنا ہے کہ سال 2016ء کے دوران مزید ایک برس کے لیے، افغانستان میں تقریباً 12000 فوجیں تعینات رکھی جائیں گی، تاکہ یہ بات یقینی بنائی جائے کہ ملک دہشت گردوں کے لیے پھر سے محفوظ ٹھکانہ نہ بن جائے۔

نیٹو کے سکریٹری جنرل ژاں اسٹولٹن برگ نے منگل کے روز بتایا کہ اپنے ’رِزولوٹ سَپورٹ مشن‘ کے حصے کے طور پر، اتحاد اندازاً 12000 فوجی فراہم کرنے کا وعدہ پورا کرے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ عدد افغانستان میں نیٹو فوج کی موجودہ نفری جاری رکھنے کے عین مطابق ہے۔
اسٹولٹن برگ کے اس اعلان سے قبل، اتحاد کے وزرائے خارجہ نے اِس فیصلے کی توثیق کی۔

گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے بعد طالبان سے لڑائی کا فیصلہ کیا گیا اور امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے سنہ 2001 میں افغانستان فتح کیا۔ نیٹو نے سنہ 2003 میں اس کارروائی کی کمان سنبھالی۔ تاہم، اتحاد نے سنہ 2014 میں لڑاکا کارروائی ختم کی، جب کہ پیچھے صرف ’رزولوٹ سپورٹ مشن‘ باقی رہ گیا۔

آج، طالبان شدت پسند اپنے حملوں میں تیزی لاتے جا رہے ہیں، جب کہ داعش کا انتہا پسند گروپ ملک میں پیر جما رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG