رسائی کے لنکس

نیٹو کو روس اور شدت پسندوں کی طرف سے چیلنج


ںیٹو جنرل سیکرٹری جین سٹولٹنبرگ

ںیٹو جنرل سیکرٹری جین سٹولٹنبرگ

سٹولٹنبرگ نے کہا کہ مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں نئے سکیورٹی چیلنجز کے نتیجے میں سرد جنگ کے بعد اب نیٹو اپنے اجتماعی دفاع میں سب سے بڑی کمک کا اضافہ کر رہا ہے۔

نیٹو داعش اور یوکرین میں جارحیت میں ملوث روس کے خلاف اپنے دفاع میں اضافے کی تیاری کر رہا ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جین سٹولٹنبرگ نے وائس آف امریکہ کی سربیئن سروس سے اس ہفتے واشنگٹن میں نیٹو کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ دونوں چیلنج ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں مگر نیٹو کو ان سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو نہ تو روس سے محاذ آرائی چاہتا ہے اور نہ سرد جنگ۔ اس کی بجائے وہ ترکی کی سرحد پر روس کا جہاز گرائے جانے جیسے واقعات سے بچنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے واقعے کے بعد نیٹو اس کے نتائج کو قابو سے باہر ہونے سے بچا سکتا ہے۔

سٹولٹنبرگ نے کہا کہ مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں نئے سکیورٹی چیلنجز کے نتیجے میں سرد جنگ کے بعد اب نیٹو اپنے اجتماعی دفاع میں سب سے بڑی کمک کا اضافہ کر رہا ہے۔

جولائی میں وارسا کی نیٹو کانفرنس سے پہلے سٹولٹنبرگ امریکی رہنماؤں سے بات چیت کر رہے ہیں جہاں مشرق وسطیٰ اور یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران کا حل اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

نیٹو کے سربراہ نے کہا کہ اس دفاعی اتحاد نے بحران سے نمٹنے کے لیے ایجیئین سمندر میں بحری جہاز تعینات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہازوں کا مقصد پناہ گزینوں اور تارکین وطن سے بھری کشتیاں واپس بھیجنا نہیں بلکہ نگرانی کرنا ہے۔

سٹولٹنبرگ نے کہا کہ نیٹو ترکی اور یونان کے کوسٹ گارڈ اور یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی فرنٹیکس کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG