رسائی کے لنکس

فرانس افغان مشن جاری رکھے، نیٹو کا اصرار


فرانس افغان مشن جاری رکھے، نیٹو کا اصرار
فرانس افغان مشن جاری رکھے، نیٹو کا اصرار

فرانس کے صدر نے افغانستان میں ایک افغان فوجی اہلکار کے ہاتھوں چار فرانسیسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد وہاں فرانس کی فوجی سرگرمیاں معطل کردی ہیں

نیٹو کے سربراہ نے فرانس پر زور دیا ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے ایک افغان فوجی کے ہاتھوں اپنے چار اہلکاروں کی ہلاکت کے باوجود افغانستان میں جاری اپنی تربیتی سرگرمیاں معطل نہ کرے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل آندریس فوگ راسموسن نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان میں جاری نیٹو کے مشن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اتحادی ممالک 2014ء تک سیکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان افواج کو سونپ کر افغانستان سے فوجی انخلا کے منصوبے سے منسلک رہیں۔

قبل ازیں فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے شمالی افغانستان میں ایک افغان فوجی اہلکار کے ہاتھوں چار فرانسیسی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد افغانستان میں فرانس کی فوجی سرگرمیاں معطل کردی تھیں۔

صدر سرکوزی نے کہا تھا کہ اگر افغانستان میں سلامتی کی صورتِ حال واضح نہ ہوئی تو وہ اپنی افواج کے افغانستان سے قبل از وقت انخلا پر غور کریں گے۔

تاہم رواں ہفتے پیرس حکومت نے افغانستان سے فرانسیسی افواج کے جلد بازی میں انخلا کی قیاس آرائیاں رد کردی تھیں۔

یاد رہے کہ افغانستان میں فرانس کے لگ بھگ 3600 فوجی موجود ہیں جو تمام کے تمام مشرقی علاقوں میں تعینات ہیں اور 2014ء تک وہاں موجود رہیں گے۔

گزشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعے میں افغان صوبے کپیسا کے ایک فوجی مرکز میں جاری تربیتی مشق کے دوران ایک افغان اہلکار نےفرانسیسی فوجیوں پر فائر کھول دیا تھا جو اس وقت غیر مسلح تھے۔

جمعرات کو اپنے بیان میں راسموسن نے کہا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ انفرادی نوعیت کا تھا۔

ایک فرانسیسی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے نیٹو سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں سلامتی کی صورتِ حال سے متعلق فرانس کے تحفظات سمجھتے ہیں اور اس مطالبے سے متفق ہیں کہ افغان فوجیوں کی بھرتیوں کے طریقہ کار کا از سرِ نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

فرانسیسی وزیرِ دفاع جیرارڈ لینگٹ نے کہاتھا کہ حملہ آور افغان فوجی ایک شدت پسند گھس پیٹھیا تھا۔ لیکن نیٹو نے تاحال اس دعویٰ کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا واقعے میں طالبان ملوث تھے۔

XS
SM
MD
LG