رسائی کے لنکس

امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کے خاتمے کو بیس سال گزر چکے ہیں مگرنیٹو کے نام سے جانا جانے والا 28 اٹلانٹک ملکوں کا اتحاد اپنی حیثیت کا نئے سرے سے تعین کر رہا ہے ۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ یہ فوجی اتحاد شناخت کے بحران کا شکار ہے اور آئندہ دہائی میں اپنی حیثیت کا تعین کرنے کے لئے نئی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے مگر نیٹو کے دفاعی اخراجات پر اعتراض کرنے والے اس سے مطمئن نہیں ۔

جب مغربی ملک روس کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اس وقت نیٹو کا کام اس خطرے کی مقابلے میں طاقت کا توازن قائم کرنا تھا ۔ لیکن دیوار برلن کے گرنے اور 1989ء میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد نیٹو کے اتحاد کی موجودگی کی بڑی وجہ ختم ہو گئی ۔ اس وقت سے نیٹو نے سابق سوویت یونین سے الگ ہونےو الے13 ملکوں کو اپنے اتحاد میں شامل کیا ہے اور بلقان اور افغانستان میں اپنے فوجی مشن بھیجے ہیں ۔لیکن مغربی یورپ کے کئی ناقدین کہتے ہیں کہ یہ فوجی مشن نیٹو کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ۔

امریکی بحریہ کے ایڈمرل جیمز سٹاوریڈس نیٹو کے اعلی فوجی عہدیدار ہیں ۔ انہو ں نے واشنگٹن میں ایک سیمینار میں بتایا کہ یہ اتحاد روایتی خطروں کا مقابلہ کرنے میں اور دہشت گردی ، بحری قذاقی اور سائبر حملوں کا مقابلہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ لیکن سٹاوریڈس نیٹو کی کمزوری کو بھی تسلیم کرتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ہم میزائل چلانے میں بہت اچھے ہیں ، لیکن ہمیں نئے آئیڈیاز پیش کرنے میں بھی بہتر کارکردگی دکھانی چاہئے۔

امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ نے حال ہی میں اس ٹیم کی سربراہی کی جس نے نیٹو کی نئی حکمت عملی کا پہلا مسودہ تیار کر کے نیٹو حکام کے سامنے پیش کیا ہے ۔ اس دستاویز کا مقصد، جسے نومبر میں نیٹو راہنماوں کے سامنے رکھا جائے گا، نیٹو کے مشنز کے لئے وسیع تر مدد حاصل کرنا ہے ۔ البرائٹ کہتی ہیں کہ ہمیں یہ واضح کرنا ہے کہ یہ اتحاد جو ساٹھ سال پہلے ایک مختلف مقصد کے لئے شروع کیا گیا تھا ،کیوں آج بھی اہم ہے ۔

نیٹو جمہوری ملکوں کا اتحاد ہے اور اس کے کئی رکن ملکوں کو اپنی پارلیمنٹ اور عوام کو یہ سمجھانے میں مشکل پیش آتی ہے کہ یورپ کے امن کو کوئی خطرہ نہ ہونے کے باوجود نیٹو کے دفاعی اخراجات پر رقم خرچ کرنے کی ضرورت کیوں ہے ۔

واشنگٹن کے ایک ادارے اٹلانٹک کونسل کے تجزیہ کار ڈیمان ولسن کہتے ہیں کہ نیٹو کی حکمت عملی کا نیا منصوبہ بھی اس تاثر کو دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا ۔ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی ایسی دستاویز نہیں ہوگی جو یورپی یا امریکی عوام کو قائل کر سکے ۔ لیکن اس میں وہ مشترکہ نکات ضرور ہونگے جن پر اتحادی راہنما ، صدور اور وزرائے اعظم بات چیت کر سکیں گے اور اپنے عوام کو بتا سکیں گے کہ نیٹو کیوں ضروری ہے ۔

میڈلین البرائٹ کی رپورٹ کے مطابق نیٹو ایک غیر یقینی دنیا میں استحکام کی علامت ہے مگر نیٹو اتحاد کو نئے اور پیچیدہ چیلنجز کے مقابلے میں تیزی سے ردعمل دکھانے کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔ جس کا مطلب ہے بہتر منصوبہ بندی، خفیہ معلومات کا تبادلہ اور میزائلوں سے دفاع جیسے نئے معاملات۔ واشنگٹن کے تھینک ٹینک ہیریٹیج فاونڈیشن کی یورپی دفاعی امور کی ماہرسیلی مک نمارااس سے اختلاف نہیں کرتیں ۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ نیٹو کے مستقبل کے لئے ایک سالہ مشاورت کافی نہیں ۔وہ کہتی ہیں کہ نیٹو کے حکام کو صرف ایسے نکات پر بات چیت کرنے کے بجائے جن پر زیادہ تر رکن ملک پہلے ہی متفق ہیں ، اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لئے اپنی فوج کو وہ تربیت اور سازو سامان مہیا کرنا چاہئے جو افغانستان میں کامیابی کے لئے ضروری ہے ۔

XS
SM
MD
LG