رسائی کے لنکس

روس ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر رہا، نیٹو کمانڈر کا الزام


نیٹو کے سپریم کمانڈر جنرل فلپ بریڈ لو

نیٹو کے سپریم کمانڈر جنرل فلپ بریڈ لو

نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر اور امریکی ایئر فورس کے جنرل بریڈ لو کا کہنا تھا کہ جوہری صلاحیت کی حامل ریاستیں ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتیں جیسا کہ روس کر رہا ہے۔

نیٹو کے سپریم کمانڈر جنرل فلپ بریڈ لو نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے 40 نئے بین البراعظمی میزائلوں کی تیاری کا فیصلہ ایک "ذمہ دار جوہری ریاست" کے زیبا نہیں۔

بدھ کو پولینڈ میں خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر اور امریکی ایئر فورس کے جنرل بریڈ لو کا کہنا تھا کہ جوہری صلاحیت کی حامل ریاستیں ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتیں جیسا کہ روس کر رہا ہے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے گزشتہ روز ماسکو میں ایک فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک رواں سال اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں جوہری مواد لے جانے کی صلاحیت کے حامل 40 بین البراعظمی میزائلوں کا اضافہ کرے گا۔

روس نے یہ قدم مبینہ طور پر امریکہ کے اس مجوزہ منصوبے کے جواب میں اٹھایا ہے کہ جس کے تحت امریکہ جنگ میں استعمال ہونےو الا بھاری اسلحہ اور گاڑیاں روس کے پڑوسی مشرقی یورپی ملکوں اور بالٹک ریاستوں میں منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

امریکی حکام کا موقف ہے کہ مجوزہ منصوبے کا مقصد اپنے نیٹو اتحادیوں کا تحفظ ہے جو روس کی یوکرین میں مداخلت کے بعد سے اپنی سلامتی سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال کا شکار ہیں۔

'رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے نیٹو کمانڈر نے صدر پیوٹن کی تقریر کی جانب بالواسطہ اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لب و لہجہ اختیار کرنا جو جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دے ذمہ دارانہ رویہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ جوہری صلاحیت کی حامل ریاستوں پر کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے موجود ہتھیاروں کو "مناسب طریقے اور احتیاط سے برتیں"۔

مجوزہ منصوبے کے تحت امریکہ جنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں اور بھاری توپ خانے سمیت اپنے پانچ ہزار تک فوجی اہلکار بلغاریہ، ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا، رومانیہ، پولینڈ اور ہنگری منتقل کرے گا۔ یہ تمام کے تمام ممالک ماضی میں سوویت یونین کے زیرِاثر رہ چکے ہیں اور ان کی نیٹو میں شمولیت امریکہ اور روس کے درمیان وجۂ نزاع بنی رہی ہے۔

پولینڈ اور لتھوانیا کے حکام تصدیق کرچکے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ ماہ امریکہ کے فوجی حکام کے ساتھ مجوزہ منصوبے پر تبادلہ خیال کیا تھا اور امریکی حکام نے اس تجویز پر جلد کوئی فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

XS
SM
MD
LG