رسائی کے لنکس

نیٹو وزرائے دفاع و خارجہ کانفرنس: نئی حکمت عملی پر غور

  • لیزا برینٹ

نیٹو وزرائے دفاع و خارجہ کانفرنس: نئی حکمت عملی پر غور

نیٹو وزرائے دفاع و خارجہ کانفرنس: نئی حکمت عملی پر غور

اگلے ماہ ہونے والے نیٹو کے اہم سربراہ اجلاس سے قبل سیکرٹری جنرل راسموسن نے برسلز میں ہونے والے وزرائے دفاع کی میٹنگ میں اتحادیوں کو جدید خطرات کا مقابلہ جدید طریقوں سے کرنے پر زور دیا ہے۔

اس ایک روزہ کانفرنس میں نیٹو کے سکرٹری جنرل اینڈرس فوگ راسموسن نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ مستقبل کے لیے اپنا نیا لائحہ عمل بناتے وقت اتحاد کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اس کے لیے صحیح انداز اختیار کرے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو کا اہم ترین مشن ، یعنی نیٹو ممالک کے 90 کروڑ شہریوں کو حملےسے بچانا ، کبھی نہیں بدلنا چاہیے۔ لیکن جدیددور کے خطروں کا مقابلہ جدید دفاعی انداز سے کیا جانا بہت ضروری ہے۔

راسمسن نیٹو اتحاد میں شامل 28 ممالک کے دفاع اور خارجہ امور کے وزرا کے ایک غیر معمولی اہم اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔ زیر غور موضوعات میں بیلسٹک میزائل ، سائبر وارفیئر اور دہشت گردی سمیت نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے نیٹو کی حکمت عملی کے اہداف یا مشن کا بیان شامل تھے ۔

توقع ہے کہ نیٹو ممالک کے سربراہان، اگلے ماہ لزبن میں ہونے والی سربراہ کانفرنس میں نئی حکمت عملی اختیار کریں گے۔ یہ1999میں حکمت عملی کے ان اہداف کی جگہ لے گی جن کا مسودہ امریکہ، برطانیہ اور اسپین پر حملوں ، اور عراق اور افغان جنگ سے قبل تشکیل دیا گیا تھا۔

راسمسن نےیورپ کے لیے میزائل کے دفاعی نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطرہ واضح ہے ، اس کی صلاحیت موجود ہے اور اس کے اخراجات کا بندوبست ممکن ہے۔

توقع ہے کہ نیا تشکیل شدہ نیٹو نسبتاً چھوٹا ہوگا، جو کفایت شعاری کے موجودہ اقدامات سے ، جن میں بعض رکن ممالک کی جانب دفاعی بجٹ میں متوقع کٹوتیاں شامل ہیں، مطابقت رکھتا ہوگا۔

نائیک وٹنی لندن میں قائم بیرونی تعلقات کی یورپین کونسل کے ایک دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ واحد بڑا اختلاف یورپ کو جوہری ہتھیاروں سے آزاد کرنے کی اپیل ہے۔

ان کا کہناتھا کہ خاص طورپر جرمنی کے وزیر خارجہ یورپ سے نیٹو کے جوہری ہتھیاروں کو ہٹانے پر زیادہ بات کررہے ہیں اور دوسری جانب کچھ اہم اتحادی ممالک اس کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

افغانستان میں جنگ برسلز کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے، لیکن ہوسکتا ہے کہ نیٹو ممالک کے سربراہان لزبن میں اس پر گفتگو کریں۔ یہ تنازع اب اپنے 10ویں سال میں داخل ہورہاہے۔

XS
SM
MD
LG