رسائی کے لنکس

امریکہ اور پاکستان کے درمیان سیاسی تعلقات کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمانی ذرائع نے امکان ظاہر کیا ہے کہ افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے رسد کی ترسیل رواں ماہ بحال ہو جائے گی۔

پاک امریکہ بات چیت کی تفصلات سے آگاہ پاکستانی پارلیمان کی اُمور خارجہ کمیٹی کےایک سینیئر رکن نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ امریکی نائب وزیر خارجہ تھامس نائیڈز اورسینیٹر حفیظ شیخ اس ضمن میں طے پانے والے مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

’’میرا خیال ہے کہ جون کے اندر ہی نیٹو قافلوں کے لیے پاکستانی سرحد کھول دی جائے گی۔‘‘

خارجہ سیکرٹری جلیل عباس جیلانی نے بھی وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سلالہ چوکی کے خلاف مہلک حملے پر امریکی معافی اور نیٹو سپلائی لائن کی بحالی سمیت دیگر معاملات پر بات چیت میں مثبت پیش رفت کا اعتراف کیا ہے۔

جلیل عباس جیلانی (فائل فوٹو)

جلیل عباس جیلانی (فائل فوٹو)

’’ہمارے مذاکرات جاری ہیں اوریہ ایک بہت ہی مثبت سمت میں پیش رفت کر رہے ہیں۔ (سلالہ حملے پر) امریکی معافی ایک بہت اہم ایشو ہے اور یہ بھی زیر بحث ہے۔‘‘

اُنھوں نےامریکی سینیٹ کی ایک اہم رکن کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی کانگریس میں بھی اب اس حقیقت کا اعتراف کیا جارہا ہےکہ اگرغلطی ہوئی ہے توامریکہ کومعافی مانگنی چاہیئے۔

خارجہ سیکرٹری نے بتایا کہ پاکستان مذاکرات میں اس بات پر بھی زور دے رہا ہے کہ مستقبل میں سرحدوں پر سلالہ جیسے واقعات کو روکنے کے لیے ایک مربوط نظام کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

اُمور خارجہ کی پارلیمانی کمیٹی کے چئیرمین حاجی عدیل نے بھی وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی معافی کے بغیر نیٹو سپلائی لائن کی بحالی سے حکومت کو سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

’’ کیسے کھولیں گے (نیٹو سپلائی لائن)، آپ کو یہاں کے عوام کھولنےدیں گے؟ پہلے تو(امریکی) معافی مانگ رہے تھے تو پھر اب کیوں تاخیر کررہے ہیں؟ امریکہ میں صدارتی الیکشن ہورہا ہے تو یہاں بھی تو عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ پارلیمنٹ نے ایک فیصلہ کیا ہے( کہ امریکہ معافی مانگے)، اس میں ہم کیا تبدیلی لاسکتے ہیں۔‘‘

حاجی عدیل نے مستقبل میں سرزمین پاکستان سے گزرنے والے نیٹو کے خوراک و سازوسامان کے قافلوں پر بھاری محصولات وصول کرنے کےموقف کا بھی بھرپور انداز میں دفاع کیا۔

’’پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے یہ اجازت دی ہے کہ ہم خوراک اور دوسری چیزیں جو اسلحہ نہ ہو ان کی سپلائی کو بحال کریں۔ مفت میں دس سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن اس کی وجہ سے ہماری قومی شاہراوں کا ڈھانچہ تباہ ہوا ہے۔ ہم پیسے نہیں مانگ رہے بلکہ ان سڑکوں کی مرمت چاہتے ہیں اور یہ مطالبہ بین الاقوامی اصولوں کے عین مطابق ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG