رسائی کے لنکس

نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ایسے مشکل حالات میں جب کشیدگی عروج پر پہنچی ہوئی ہو، بات چیت انتہائی ضروری ہوجاتی ہے۔

مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد نیٹو اور روس کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقات بدھ کو ہورہی ہے جو دو برسوں کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان پہلا براہِ راست رابطہ ہوگا۔

'نیٹو – رشیا کونسل' کا جون 2014ء کے بعد یہ پہلا اجلاس ہوگا جس میں نیٹو کے 28 رکن ممالک کے نمائندے اور روسی وفد شریک ہوگا۔

اجلاس میں یوکرین، شام اور افغانستان کی صورتِ حال کے علاوہ ایسے فوجی حادثات سے بچنے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا جن کے نتیجے میں جنگ چھڑنے کا خدشہ ہو۔

روس کی جانب سے یوکرین کے علاقے کرائمیا کے اپنے ساتھ الحاق کے بعد نیٹو اور روس کے درمیان باضابطہ رابطوں کا سلسلہ منقطع ہوگیا تھا جو اب لگ بھگ دو سال کے وقفے کے بعد بحال ہورہے ہیں۔

گوکہ یوکرین کے مشرقی علاقے میں روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تحریک بدستور جاری ہے اور اس مسئلے پر مغربی ملکوں اور ماسکو کے تعلقات ہنوز کشیدہ ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں نیٹو رشیا کونسل کا اجلاس بلانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ فریقین تعلقات معمول پر لانے کے خواہش مند ہیں۔

اجلاس سے قبل اپنے ایک بیان میں نیٹو کے سربراہ جینز اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعات کے بعد اس اجلاس کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے۔

گزشتہ ہفتے بحیرۂ بالٹک میں روس کے ایک جنگی طیارے نے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کے انتہائی نزدیک پرواز کی تھی جس پر دونوں ملکوں کے درمیان الزامات کا تبادلہ ہوا تھا۔

امریکہ نے روسی طیارے کی پرواز کو اشتعال انگیز کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ روسی طیارہ امریکی جہاز کے اتنا نزدیک تھا کہ اسے خطرہ سمجھ کر مار گرانا جائز ہوتا۔ تاہم روس نے امریکہ کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ طیارہ امریکی جہاز سے محفوظ فاصلے پر تھا۔

بدھ کو اپنے بیان میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ایسے مشکل حالات میں جب کشیدگی عروج پر پہنچی ہوئی ہو، بات چیت انتہائی ضروری ہوجاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG