رسائی کے لنکس

یوکرین میں مزید مداخلت 'تاریخی غلطی' ہوگی، نیٹو


'نیٹو' کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈرکے بقول ماسکو نے یوکرین کی سرحد پر اتنی فوج جمع کر رکھی ہے کہ وہ بآسانی تین سے پانچ دن میں اپنا "مقصد" حاصل کرسکتا ہے۔

مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد 'نیٹو' نے خبردار کیا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین میں مزید مداخلت "ایک تاریخی غلطی" ہوگی جس کے نتیجے میں روس عالمی برادری میں مزید تنہا ہوجائے گا۔

بدھ کو برسلز میں تنظیم کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے 'نیٹو' کے سیکریٹری جنرل آندے فوغ راسموسن نے کہا کہ یوکرین میں مزید روسی مداخلت سے ماسکو اور مغربی دنیا کے تعلقات پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر روس نے یوکرین میں مداخلت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تو یہ اس کی ناعاقبت اندیشی ہوگی جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

دوسری جانب 'نیٹو' کے ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ اگر روس نے یوکرین میں مداخلت کا فیصلہ کیا تو ماسکو نے سرحد پر اتنی فوج جمع کر رکھی ہے کہ وہ بآسانی تین سے پانچ دن میں اپنا "مقصد" حاصل کرسکتا ہے۔

یورپ میں 'نیٹو' افواج کے سپریم الائیڈ کمانڈر اور امریکی فضائیہ کے جنرل فلپ بریڈ لو کے مطابق یوکرین کی سرحد پر موجود روسی فوجی دستے "تعداد میں بہت زیادہ، بہت مستعد اور بہترین صلاحیت کے حامل" ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ یوکرین کی سرحد کے ساتھ 40 ہزار سے زائد روسی فوجی اب بھی موجود ہیں جنہیں بھاری اسلحے اور توپ خانے کی مدد حاصل ہے۔

بدھ کو برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں جنرل فلپ نے یوکرین کی سرحد پر صورتِ حال کو "انتہائی تشویش ناک" قرار دیا۔

امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات یوکرین سرحد پر تعینات روسی فوجی دستوں میں سے بعض نے نقل و حرکت کی ہے لیکن 'نیٹو' کو اس بارے میں کوئی شواہد نہیں ملے کہ آیا یہ دستے روسی حکام کے دعووں کے مطابق واپس اپنی بیرکوں کو لوٹ رہے تھے۔ 'نیٹو' کے یورپ میں سپریم الائیڈ کمانڈر اور امریکی فضائیہ کے جنرل فلپ مارک

'نیٹو' کے یورپ میں سپریم الائیڈ کمانڈر اور امریکی فضائیہ کے جنرل فلپ مارک


خیال رہے کہ یوکرین میں روس نواز حکومت کا تختہ الٹے جانے اور نیم خود مختاریوکرینی علاقے کرائمیا کے روس کے ساتھ الحاق کے بعد مغرب اور روس کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔

روس کی یوکرین میں مداخلت اور کرائمیا کے الحاق پر امریکہ اور یورپی ممالک نے روس پر بعض پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ گزشتہ روز برسلز میں جمع ہونے والے 'نیٹو' وزرائے خارجہ نے بھی روس کے ساتھ ہر قسم کا سول اور فوجی تعاون معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

'نیٹو' کے فوجی کمانڈروں اور رہنماؤں نے یوکرین کی سرحد کے ساتھ روسی فوجی دستوں کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت اور تعیناتی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جو، ان کے بقول، مشرقی اور جنوبی یوکرین کی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہیں۔

گوکہ روسی حکومت کرائمیا کے الحاق کے بعد واضح کرچکی ہے کہ اس کا باقی ماندہ یوکرین میں فوجی مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں لیکن سرحد پر فوجیوں کی بڑی تعداد نے یوکرین حکومت اور 'نیٹو' ممالک کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

روس نے 'نیٹو' کی جانب سے ہر قسم کا تعاون معطل کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مغربی اتحادی ممالک پر 'سرد جنگ' کے زمانے کی سوچ اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

'نیٹو' کے لیے روس کے سفیر الیگزنڈر گروشکو نے بدھ کو اپنے ایک 'ٹوئٹر' پیغام میں کہا ہے کہ 'نیٹو' ممالک کی سرد جنگ کے زمانے کی "حسیات" پھر بیدار ہوگئی ہیں۔

روسی وزیرِ خارجہ سرجئی لاوروف نے بھی بدھ کو اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کو فون کرکے 'نیٹو' کے فیصلے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے یوکرین کے بحران پر بین الاقوامی تعاون کے امکانات پر بھی بات کی۔ تاہم وزارتِ خارجہ کے بیان میں ان امکانات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG