رسائی کے لنکس

نیٹو حملوں پر پاکستان میں شدید ردِ عمل، سپلائی معطل

  • عمیر ریاض

افغانستان روانگی کے لیے تیار نیٹو کت ٹرک پاک، افغان بارڈر پر کھڑے ہیں۔

افغانستان روانگی کے لیے تیار نیٹو کت ٹرک پاک، افغان بارڈر پر کھڑے ہیں۔

افغانستان میں مصروف مغربی اتحادی افواج کی جانب سے جمعرات کے روز پاکستانی سرحد کی گزشتہ ایک ہفتے میں مسلسل چوتھی بار خلاف ورزی کے واقعے پر ملک بھر میں شدید ردِ عمل ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ ملکی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے اراکین نے حکومت سے سرحد کی خلاف ورزی کرنے والے نیٹو ہیلی کاپٹرز مار گرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ کی امورِ خارجہ کمیٹی کے چیئر مین سینیٹر جان کیری نے پاکستانی وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سے نیٹو کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔ جبکہ پاکستان کے دورے پرآئے ہوئے امریکی ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ کو بھی پاکستانی حکام سے ہونے والی ملاقاتوں میں شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

نیٹو کی تازہ کاروائی

پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے ہیلی کاپٹروں نے جمعرات کی صبح افغان سرحد سے متصل پاکستانی علاقے اپرکرم ایجنسی کے ایک گائوں منڈاتہ کندائو میں نیم فوجی دستے کی ایک چوکی کو نشانہ بنایاتھا۔ حملے میں پاکستان کی بارڈر سیکیورٹی فورس کے تین اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئےتھے

حملے کے چند گھنٹے بعد نیٹو ہیلی کاپٹرز نے سرحد کی دوسری بار خلاف ورزی کرتے ہوئے اسی ایجنسی کے ایک اور علاقے مٹہ سنگر میں موجود ایک اور چوکی پر میزائل برسائے تاہم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس سے قبل 27 ستمبر کو مٹہ سنگر ہی کے علاقے میں نیٹو ہیلی کاپٹرز کی کاروائی میں چھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے۔ جبکہ ہفتے کے روز نیٹو کے ہیلی کاپٹرز نے پاکستانی سرحد کے اندر حملہ کرکے 30 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

کابل میں نیٹو فورسز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں جمعرات کے روز نیٹو ہیلی کاپٹرز کی پاکستانی حدود میں داخل ہو کر "کئی مسلح افراد" کو ہلاک کرنے کے واقعے کی تصدیق کی گئی ہے۔

نیٹو کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایساف ہیلی کاپٹرز جمعرات کی صبح اس وقت پاکستانی سرحدی حدود میں مختصر وقت کیلیے داخل ہوئے جب وہ مغربی افواج کے ایک اڈے پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا پیچھا کررہے تھے۔ بیان کے مطابق ہیلی کاپٹرز پر پاکستانی حدود سے فائرنگ کی گئی جس کے بعد ہیلی کاپٹرز "اپنے دفاع میں کاروائی کیلیے دوبارہ پاکستانی حدود میں داخلے پر مجبور ہوئے اور حملہ کرکے کئی مسلح افراد کو ہلاک کردیا"۔

تاہم جب ایساف سے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کے حوالے سے وضاحت طلب کی گئی تو اتحاد کی ترجمان خاتون کا کہنا تھا کہ "دونوں فریقین کی جانب سے معاملے کی تفتیش کی جارہی ہے"۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو صحافیوں کو دی جانے والی ایک بریفنگ میں واقعے پر شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنائے گا۔ترجمان نے نیٹو کی جانب سے پاکستانی سرحدکی خلاف ورزی کو اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے واقعے پر نیٹو اور ایساف سے شدید احتجاج کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان باقاعدہ ردِعمل واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دے گا جو ان کے مطابق ابھی جاری ہیں۔

سینیٹ میں احتجاج

تاہم دونوں فریقین کی جانب سے واقعے کی تفتیش کیے جانے کے بیان کے باوجود پاکستان میں مختلف طبقہ ہائے فکر کی جانب سے نیٹو کی مسلسل سرحدی خلاف ورزیوں پر شدید ردِعمل سامنے آرہا ہے اور جمعرات کے روز سینیٹ کے اراکین نے حکومت سے افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز کی سپلائی روکنے اور سرحد کی خلاف ورزی کرنے والے طیاروں کو مار گرانے کا مطالبہ کیا۔

ایوانِ بالا میں بحث کے دوران اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے کئی ارکان نے حکومت اور پاکستانی فوج کو نیٹو کی سرحدی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بحث کے دوران ایک اپوزیشن رکن کا کہنا تھا کہ "اگر ہم دو ہیلی کاپٹرز نہیں گرا سکتے تو سرحد پر بیٹھی فوج کیا کر رہی ہے"۔ اس موقع پر کئی ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی پر نیٹو کو سپلائی روک دی جائے۔

ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو درکار ستر فیصد اشیاء کی سپلائی پاکستان کے راستے کی جاتی ہے۔

نیٹو کو سپلائی معطل

سینیٹرز کی جانب سے مطالبےکے بعد جمعرات کی شام نیٹو کا سامان لے جانے والے قافلوں کو پاکستان کے مختلف سرحدی مقامات پہ روک دیا گیا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کے مطابق نیٹو کو سامان کی ترسیل سیکیورٹی کے خدشات کی بنا پر روکی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نیٹو اور ایساف کیلیے سامان لے جانے والے قافلوں کو پشاور کے نزدیک پاک افغان طورخم بارڈر پر روک دیا گیا ہے جس کے بعد سرحدکے ساتھ واقع پاکستانی علاقے میں سینکڑوں ٹرک اور فیول ٹینکرزکھڑے ہوئے ہیں۔ ایک برطانوی خبر رساں ایجنسی نے ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ نیٹو کو سپلائی قافلوں کو لاحق سیکیورٹی خدشات کے تحت روکی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بھی نیٹو کی سپلائی لے جانے والے ٹرکوں کو روک دیا گیا ہے۔

سینیٹر کیری کا پاکستانی وزیرِاعظم سے رابطہ

ادھر جمعرات کی شام امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان کیری نے وزیرِ اعظم گیلانی کو فون کیا اور نیٹو کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر گفتگو کی۔

بعد ازاں ایک فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کیری نے پاکستانی وزیرِ اعظم سے ہونے والی بات چیت کو خوشگوار قرار دیتےہوئے کہا کہ وہ تنازعے کے حل کیلیے کام کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام واقعے میں ہونے والے جانی نقصان پر تشویش کا شکار ہیں ۔

سینیٹر کیری کا کہنا تھا کہ 'ہمیں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلیے کوشش کرنا چاہیے اور ہم یہ کوشش کرتے بھی ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام پہلے ہی کئی ایسے مشکل مسائل کا سامنا کر رہے ہیں "جنہوں نے ان کی تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کرا رکھی ہے"۔ تاہم سینیٹر کیری نے یہ وضاحت کرنے سے گریز کیا کہ ان کا اشارہ کس جانب ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی ملاقاتیں

پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی نیٹو کی جانب سے پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کا معاملہ امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا کے ساتھ جمعرات کے روز ہونے والی اپنی علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں میں اٹھایا۔

سی آئی کے ڈائریکٹر پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد میں موجود ہیں جہاں انہوں نے گزشتہ روز پاکستانی آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل شجاع پاشا سے ملاقاتیں کی تھیں۔

تاہم جمعرات کو پاکستانی صدر اور وزیرِاعظم سے ہونے والی ان کی ملاقاتوں میں سرحدی خلاف ورزی کا معاملہ سرِ فہرست رہا۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی وزیرِ اعظم سے ہونے والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم نے نیٹو افواج کی جانب سے سرحد پار کاروائیوں اور امریکی ڈرون حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی اہلکار سے پاکستان کے تحفظات اپنی انتظامیہ تک پہنچانے کا کہا۔

بیان کے مطابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان اتحادی ممالک سے امید رکھتا ہے کہ وہ اس کی سرحدی خودمختاری کا احترام کرینگے۔ گیلانی کا کہنا تھا کہ نیٹو اور ایساف کو پاکستان کے ساتھ اطلاعات کے تبادلہ کا نظام وضع کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی خطرے کے خلاف پاکستان خود اپنی سرحدوں کے اندر کاروائی کرسکے۔

بیان کے مطابق امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے تسلیم کیا کہ افغانستان میں تعینات بین الااقوامی اتحادی افواج کو اقوام متحدہ کی طرف سے صرف افغانستان میں کارروائی کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو یقین دہانی کرائی کہ نیٹو اور ایساف کی طرف سے پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کے واقعات پر غور کیا جائے گا۔

قبل ازیں سی آئی اے کے سربراہ نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس میں پاکستانی صدر کا کہنا تھا کہ نیٹو افواج کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا کوئی بھی واقعہ "ناقابلِ برداشت " ہوگا۔

ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صدر نے لیون پنیٹا کو بتایا کہ پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی جیسا کوئی بھی قدم عالمی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی ہوگا جسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

تعاون پہ نظر ثانی کامطالبہ

ادھر پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے گورنر نے نیٹو فورسز کی جانب سے پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکومت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اختیار کیے گئے طرزِ عمل پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

پشاور سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر اویس احمد غنی نے نیٹو ہیلی کاپٹرز کے پاکستانی سرحدی چوکی پہ حملے کو بلاجواز، پاکستان کی علاقائی خودمختاری کے خلاف اور پاکستانی عوام کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا۔

اپنے بیان میں گورنر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کے ساتھ اس قسم کے واقعات نامناسب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے کردار پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔

ادھر پاکستان کی مذہبی جماعتوں کی جانب سے نیٹو کے حملوں اور سرحدی خلاف ورزیوں کے واقعات کے خلاف جمعے کو ملک بھر میں یومِ احتجاج منانے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG