رسائی کے لنکس

افغانستان کی صورتحال پر نیٹو سربراہ اجلاس


افغانستان کی صورتحال پر نیٹو سربراہ اجلاس

افغانستان کی صورتحال پر نیٹو سربراہ اجلاس

پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں نیٹو ممالک کا سربراہ اجلاس ہورہا ہے جس میں توقع ہے کہ افغانستان کے 2014ء تک خود اپنی سلامتی کا نظام سنبھالنے کے ہدف کی توثیق کی جائے گی۔

افغان صدر حامد کرزئی یہ تجویز پیش کرچکے ہیں کہ ان کا ملک آئندہ چار سالوں میں سلامتی کے علاوہ اپنے حکومتی اداروں کا نظام اور اقتصادی ترقی کی ذمہ داری خود سنبھالے۔

28ملکوں پرمشتمل نیٹو کے د وروزہ اجلاس میں دیگر ملکوں کے علاوہ امریکی صدر براک اوباما بھی شریک ہوں گے اور توقع ہے کہ وہ اس موقع پر افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلاکے بارے میں آئندہ کے منصوبوں سے آگاہ کریں گے۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب افغانستان میں 2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک کو بدترین تشدد کا سامنا ہے اور مزاحمت کاری پھیلتی دکھائی دے رہی ہے ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ 60سال قبل قائم ہونے والی تنظیم نیٹو کے لیے اس جنگ سے نمٹنا اپنی تاریخ کا کڑا ترین امتحان بنا ہوا ہے۔

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ ان کا ملک افغانستان کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے 2011ء کے وسط تک یہاں سے اپنی فوج کا انخلا شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن مبصرین کی رائے میں حال ہی میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعت ری پبلکن کی پوزیشن مستحکم ہونے کے بعد اوباما انتظامیہ کو اپنی جنگی حکمت عملی کے سلسلے میں پہلے سے زیادہ جانچ پڑتال کا سامنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG