رسائی کے لنکس

نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد پاکستان کو مشکلات کا سامنا

  • واشنگٹن

نیٹو سپلائی کی بحالی

نیٹو سپلائی کی بحالی

نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد سے دہشت گردی کے واقعات بڑھ گئے ہیں اور ان واقعات میں سے زیادہ تر میں سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے

نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد پاکستان کو اندرونی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ایک جانب تو دائیں بازو کی جماعتیں بحالی کی مخالفت کررہی ہیں تو دوسری طرف ایک بار پھر دہشت گردی کے واقعات میں ضافہ دیکھا جا رہا ہے اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکار دہشت گردوں کے براہ راست نشانے پر ہیں ۔

گزشتہ سال سلالہ چیک پوسٹ پر اتحادی افواج کے حملے کے بعد پاکستان نے زمینی راستوں سے افغانستان میں اتحادی افواج کو رسد بند کر دی تھی جس کے بعداندرون ملک دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آگئی تھی لیکن تقریباً سات ماہ بعد جب نیٹو سپلائی دوبارہ بحال ہوئی تو دائیں بازو کی قوتوں کے ساتھ ساتھ کالعدم تنظیمیں بھی حکومت کے خلاف صف آراء ہیں۔

دفاع پاکستان کے زیر اہتمام نیٹو سپلائی کی بحالی کے پانچ روز بعد لاہور سے اسلام آباداور پھر چمن تک لانگ مارچ ہوا ۔ اس کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام کراچی اور دیگر شہروں میں بھی جلسے ، جلوسوں اور ریلیوں کے بعد پیر سے پشاور میں دو روزہ دھرنا دیا جا رہا ہے ۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ بھی اس فیصلے پر سخت تنقید کر رہے ہیں ۔

دوسری جانب نیٹو سپلائی کی بحالی کے بعد سے دہشت گردی کے واقعات بڑھ گئے ہیں ۔ ان واقعات میں سے زیادہ تر میں سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ۔دہشت گردوں کی جانب سے پہلا بڑا حملہ 9 جولائی کو گجرات میں فوج کے ریسکیو کیمپ پر کیا گیا جس میں سات جوان اور ایک پولیس اہلکار لقمہ اجل بنے ۔

گیارہ جولائی کو کراچی میں خلائی تحقیق کے ادارے سپارکو کی بس کو نشانہ بنایا گیا ۔

بارہ جولائی کو لاہور کے علاقے سمن آباد میں خیبر پختونخواہ کے زیر تربیت جیل اہلکاروں کے ہوسٹل میں دہشت گرد داخل ہو گئے اور اندھا دھند فائرنگ میں نو اہلکاروں کوہلاک اور نو کو زخمی کر دیا ۔

تیرہ جولائی کو دہشت گردوں نے نیٹو سپلائی کی سب سے بڑی حامی جماعت اے این پی کے جلسے کو کوئٹہ میں نشانہ بنایا جس میں چھ افراد جاں بحق اور چوبیس زخمی ہو گئے ۔

پیر 16جولائی کو ایک مرتبہ پھر بنوں تھانے پربرقع پوش شدت پسندوں نے فائرنگ اور خود کش حملہ کیا تاہم خوش قسمتی سے سیکورٹی اہلکاروں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔

ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مزید شدت آ سکتی ہے۔کیوں کہ نیٹو سپلائی کی بحالی سے متعلق یاداشت پر بات چیت ہو رہی ہے ۔ایسے وقت میں مخالفین کا مزید سخت رد عمل سامنے آ سکتا ہے ۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG