رسائی کے لنکس

نیٹو سپلائی لائن کی جلد بحالی کا مطالبہ


نیٹو سپلائی لائن کی جلد بحالی کا مطالبہ

نیٹو سپلائی لائن کی جلد بحالی کا مطالبہ

نیٹو نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی افواج کی سپلائی لائنز جلد سے جلد بحال کرے کیوں کہ اس میں اُس کا اپنا بھی مفاد ہے۔

تین ہفتے قبل مہمند ایجنسی میں نیٹو کے حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں تعینات امریکی اوراتحادی افواج کی سپلائی لائن کاٹ دی تھی جبکہ سرحد پر موجود فوجی روابط کے مشترکہ مراکز سے بھی اپنے افسران کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا۔

لیکن پیر کو کابل میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو کے ترجمان بریگیڈئیر جیکبسن نے بتایا کہ پاکستانی افسران مشترکہ فوجی مراکز پر واپس آچکے ہیں اور انھوں نے اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنھبال لی ہیں۔

ان فوجی مراکز کے قیام کا مقصد پاک افغان سرحد پر عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران نیٹو، افغان اور پاکستانی افواج کے درمیان موثر رابطوں کے ذریعے غلط اہداف پر حملوں کے امکانات کو کم کرنا ہے۔

لیکن پاکستان کا الزام ہے کہ ان مراکز میں اس کے افسران کو دی گئی غلط معلومات 26 نومبر کو نیٹو کے اس حملے کی وجہ بنیں جس میں 24 پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

پاکستانی فوجی حکام کا موقف ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر اور بلااشتعال کیا گیا لیکن امریکی اور نیٹو حکام نے اسے غیر ارادی کارروائی قرار دے کر اس کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

لیکن ترجمان نے بتایا کہ نیٹو کے لیے پاکستان کے راستے رسد بھیجنے کا سلسلہ تاحال منقطع ہے اور اتحادی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن اس سلسلے میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی کے ساتھ رابطے میں ہیں جس میں پیش رفت کے آثار بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم اُنھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

’’لیکن سپلائی لائنزکی جلد سے جلد بحالی نا صرف بین الاقوامی افواج بلکہ خود پاکستان کے بھی اقتصادی مفاد میں ہے۔‘‘

ادھر پاکستانی حکام اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ امریکہ اور نیٹو کےساتھ تعاون کی نئی شرائط کی پارلیمان سے منظوری کے بعد ہی نیٹو سپلائی لائنز کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ان کے بقول سپلائی لائن کی بحالی کے لیے پارلیمنٹ سے مینڈیٹ ملنے کے بعد ہی اس پر امریکہ اور نیٹو سے بات چیت ہوگی جس کا مستقبل قریب میں بظاہر کوئی امکان نہیں اور اس میں مزید کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدے داروں کے بقول گزشتہ دس سالوں کے دوران ان کے ملک کو بے مثال جانی ومالی نقصانات ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے مگر بین الاقوامی برادری بشمول امریکہ نے ان قربانیاں کو سراہنے کی بجائے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی شروع کردی ہے جو کسی طور قابل برداشت نہیں۔

XS
SM
MD
LG