رسائی کے لنکس

افغانستان میں نیٹو فورسز کےلیے سپلائی روٹ دوبارہ کھولنے پر پاکستانی عہدے داروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد امریکہ اپنے مذاکرات کاروں کو واپس بلارہاہے۔

پیٹناگان کے ایک ترجمان جارج لٹل نے پیر کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ کہ مذاکراتی ٹیم کے کچھ ارکان حال ہی میں پاکستان سے چلے گئے ہیں جب کہ دوسرے بھی جلد ہی واپس آجائیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم اس مسئلے کے حل تک مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں کوئی تعطل پیدا نہیں ہوا۔

اسلام آباد نے گذستہ سال نومبر میں افغان سرحد کے قریب واقع پاکستانی فورسز کی ایک چوکی پر غلطی سے کیے جانے والے امریکی حملے کے ردعمل میں نیٹو کے لیے سپلائی روٹ بند کردیاتھا۔

پاکستانی عہدے داروں نے سرحدی چوکی پر ہونے والے حملے پر غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن واشنگٹن نےاس پر صرف معذرت کی تھی اور اسلام آباد نے ردعمل میں زمینی راستوں سے نیٹو کی سپلائی روک دی تھی۔

امریکہ نے اس پر تقریباً پاکستان کی تین ارب ڈالر کی فوجی امداد روک دی تھی جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی خراب ہوگئے ۔

سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پاکستان کی پارلیمنٹ نے امریکہ کے ساتھ اپنے مستقبل کے تعلقات پر نظر ثانی کی اور پارلیمنٹ کے ارکان نے پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔

امریکی عہدے داروں کو توقع تھی کہ پاکستان گذشتہ ماہ افغانستان پر نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل نیٹو کا سپلائی روٹ کھول دے گا۔

XS
SM
MD
LG