رسائی کے لنکس

نیٹو افواج، افغانستان سے متعلق امریکہ کے حتمی فیصلے کی منتظر


افغانستان میں مشن کمانڈر امریکی جنرل جان نکلسن (فائل فوٹو)
افغانستان میں مشن کمانڈر امریکی جنرل جان نکلسن (فائل فوٹو)

افغانستان میں غیر معمولی تعداد میں امریکی فورسز کی موجودگی کے باعث افغانستان کے مستقبل کے لیے نیٹو ابھی کوئی منصوبہ بندی کرنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ امریکی انتظامیہ یہ تعین کر رہی ہے کہ کیا اسے منصوبے کے مطابق فوجیوں کا انخلا کرنا ہے یا نہیں۔

نیٹو کی ملٹری کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اس غیر یقینی صورت حال کے باوجود کہ مستقبل میں افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد کتنی ہو گی، نیٹو کے اکثر فوجی سربراہان کا کہنا ہے کہ وہ جنگ زدہ اس ملک سے اپنی فورسز نکالنے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے۔

پیٹر پاول نے بدھ کو برسلز میں نیٹو کے ہیڈکواٹرز میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’نیٹو کے اکثر اتحادیوں کی عمومی رائے یہی تھی‘‘ کہ وہ ’’افغانستان میں اپنی سرگرمیوں کی سطح برقرار رکھیں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس نظریے کے تحت کیا گیا کہ نیٹو کی فوجوں کی واپسی کے لیے ابھی ’’تمام شرائط پوری نہیں ہوئیں۔‘‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اس سال کے آخر تک افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد 9,800 سے کم کر کے 5,500 کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔

افغانستان میں غیر معمولی تعداد میں امریکی فورسز کی موجودگی کے باعث افغانستان کے مستقبل کے لیے نیٹو ابھی کوئی منصوبہ بندی کرنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ امریکی انتظامیہ یہ تعین کر رہی ہے کہ کیا اسے منصوبے کے مطابق فوجیوں کا انخلا کرنا ہے یا نہیں۔

نیٹو کے عہدیدار نے بدھ کو بتایا کہ وہ امریکہ کے حتمی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں تا کہ اس کے مطابق مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

پیٹر پاول نے کہا کہ نیٹو کے ملٹری سربراہان نے افغانستان میں اپنے مشن کے ایسے ضوابط متعین کرنے کا کہا ہے جو زمینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے لچک کا مظاہرہ کر سکیں۔

نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ، امریکی فوج سے تعلق رکھنے والے جنرل کرٹس ایم سکیپاروٹی نے کہا کہ افغانستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ افغان فورسز خود کفیل ہوں۔

رواں سال کے اوائل میں اُس وقت افغانستان میں بین الاقوامی فورسز کے سربراہ امریکی جنرل جان کیمبل نے اپنی گواہی میں بھی کم و بیش انہی خیالات کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے فروری میں کانگریس کے ایوان نمائندگان کی آرمڈ سرورسز کمیٹی کو بتایا کہ ’’امریکہ کو 2016 اور اس سے آگے اپنے مشن میں لچک کا مظاہرہ کرتے رہنا چاہیئے۔‘‘

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک نیٹو عہدیدار نے بتایا کہ کچھ یورپی اقوام کے کچھ چیزوں میں پوشیدہ مفادات ہیں جس کی وجہ سے وہ امریکی افواج کی تعداد سے قطع نظر افغانستان میں سکیورٹی پروگراموں کو جاری رکھنا چاہتی ہیں۔

ان پروگراموں میں افغان منشیات کے کاروبار کی روک تھام شامل ہے جسے کچھ یورپی ممالک اپنے لیے اندرونی خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ فضائیہ کے پائلٹوں کی تربیت اور انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کے آپریشنز شامل ہیں۔

مگر مبصرین کے بقول اس غیر یقینی سے امریکہ کے چیئرمین آف جوائنٹ چیف آف سٹاف جو ڈنفورڈ کے لیے مشکل ہو گیا ہے کہ وہ افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے نیٹو کے فوجی رہنماؤں کو کوئی مشورہ دے سکیں۔

XS
SM
MD
LG