رسائی کے لنکس

نیٹو کی بحر روم میں تارکین وطن کی نقل و حرکت پر تشویش


’ہمیں اس تمام نقل و حرکت پر تشویش ہے۔۔۔ ان میں سے کچھ لوگ غیر مستحکم علاقوں سے آنے والے قانونی پناہ گزیں ہوں گے۔ لیکن، باقی یقنناً منظم جرائم پیشہ ہوسکتے ہیں۔ اور ہاں، ہمیں یقین ہے کہ ان میں انتہاپسند بھی شامل ہوں گے۔ اس لئے، یہ ایک مسئلہ ہے، جسے ہمیں حل کرنا ہے‘

نیٹو نے خبردار کیا ہےکہ انتہاء پسند بحر روم کے راستے ترک وطن کرکے یورپی یونین کے ممالک پہنچ سکتے ہیں۔

برسلز میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نیٹو کے ملٹری کمانڈر امریکی ائرفورس کے جنرل، فلپ بریڈلو نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں میں وہ لوگ میں شامل ہوسکتے ہیں، جو لڑائیوں اور غربت سے تنگ آکر فرار ہوئے ہوں یا پھر مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے مشتبہ تنظیموں کے گروہ اور انتہاء پسندوں ہوں۔

بقول اُن کے، ’ہم نہیں جانتے کہ اس ہجرت میں کیا کچھ شامل ہے، جو بحر روم کو پار کرکے افریقہ سے ہمارے یورپی اقوام میں داخل ہو رہا ہے۔ اس لئے ہمیں اس تمام نقل و حرکت پر تشویش ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ غیر مستحکم علاقوں سے آنے والے قانونی پناہ گزین ہوں گے۔ لیکن، باقی یقنناً منظم جرائم پیشہ ہوسکتے ہیں۔ اور ہاں، ہمیں یقین ہے کہ ان میں انتہاپسند بھی شامل ہوں گے۔ اس لئے، یہ ایک مسئلہ ہے، جسے ہمیں حل کرنا ہے۔‘

یورپی یونین نے لیبا سے اسمگل ہو کر آنے والے جتھوں کےخلاف بحری مشن کی منظوری دیدی ہے۔

سب سے زیادہ پناہ گزیں اٹلی پہنچے ہیں، جن کے وزیر خارجہ پالو جنٹیلونی نے تجویز دی ہے کہ نیٹو بحر روم میں موجود اپنے انسداد دہشت گردی یونٹ کو استعمال کرتے ہوئے یورپی یونین کے اس آپریشن میں اپنا حصہ بٹائے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ صرف اس سال 50000 سے زائد ایمگرینٹس بحر روم کے راستے یورپ میں داخل ہوئے جن ی سے 30000 اٹلی پہنچے۔ لیکن، اس کوشش میں کوئی 1700 سے زائد سمندر میں اپنی جان گنوا بیٹھے۔

XS
SM
MD
LG