رسائی کے لنکس

سال رواں میں قدرتی آفات کی تباہ کاریاں

  • روزین سکربل
  • ندیم یعقوب

سال رواں میں قدرتی آفات کی تباہ کاریاں

سال رواں میں قدرتی آفات کی تباہ کاریاں

2011ءمیں امریکہ بھر میں شدید موسم کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی۔ بل ونگ کے لئے یہ تباہی ایک سال پہلے نئے سال کے موقع پر ایک طوفانی بگولے کے ساتھ آئی جس نے ریاست آرکنسا کے شہر سنسنیٹی میں تباہی مچا دی تھی۔

یہ واقعہ 2011ءمیں پورے ملک میں آنے والے 1600 ٹارنیڈوز میں سے ایک تھا۔سال کے دوران موسم سے متعلق بارہ تباہ کن واقعات میں تقریباً ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا جو ایک ریکارڈ ہے۔

بل ونگ کہتے ہیں کہ ہم نے تاریخی اعتبار سے ہر نوعیت کے شدید موسمی واقعات دیکھے ہیں۔برفانی طوفان،ٹارنیڈوز ،طوفانی بارشیں ،آندھیاں یا خشک سالی،اس سال تقریباً سب نے نئے ریکارڈ بنائے۔

صرف ٹیکساس، نیو میکسیکو اوراوکلوہاما میں جنگلوں میں لگنے والی آگ، گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے ہونے والی تباہی کا تخمینہ چھ سے آٹھ ارب ڈالر ہے۔

امریکی محکمہ موسمیات کے ترجمان کرس ویکارو کہتے ہیں کہ گزشتہ سال میں موسمی ترتیب اورانداز میں تبدیلی اس کی بڑی وجہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بے شک ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے جن سے ظاہر ہو کہ یہ مخصوص تبدیلیاں عالمی حدت کی وجہ سے ہیں مگر اس سال کی شدید موسمی تبدیلیاں ماہرین کے طویل مدتی جائزوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔

عالمی حدت کا بڑھتا ہوا مسلہ نہ صرف متوا تر گرم لہروں ، جنگلوں میں آگ لگنے کے واقعات اور خشک سالی کوممکن بنا سکتا ہے بلکہ زیر آب علاقوں میں طوفانی حالات پیدا کر سکتا ہے۔

صاف آب و ہوا کے حصول کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم کےسربراہ فضا ئی آلودگی کم کرنے پر زور دیتے ہیں۔

کرس ویکاروکہتے ہیں کہ آئیندہ شدید موسمی حالات ہی شاید عا م حالات بن جائیں ۔ ان کا ادارہ عوام کو ان تبدیلیوں سے نٕمٹنے کے لئے تیار رہنے کے لئے دوسرے سرکاری اور نجی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تا کہ لوگ مستقبل میں قدرتی آفات سے مقابلہ کر سکیں ۔

XS
SM
MD
LG