رسائی کے لنکس

بھارت سے تعلقات میں پیش رفت ضروری ہے: نواز شریف


’پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو جنگی طیاروں، آبدوزوں اور دیگر دفاعی ساز و سامان پر اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے یہ رقم اپنے عوام پر خرچ کرنی چاہیئے‘

پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ خوشحالی کے لئے بھارت کے ساتھ تعلقات میں پیش رفت ضروری ہے۔ پاکستان کو اگر اپنی عوام کی خوشحالی کے لئے دفاعی بجٹ میں کٹوتی بھی کرنی پڑی تو کریں گے۔ لیکن، اس کے لئے بھارت کو بھی آگے آنا ہوگا۔

اُن کے بقول، پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو جنگی طیاروں، آبدوزوں اور دیگر دفاعی سازوسامان پر اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے یہ رقم اپنی عوام پر خرچ کرنی چاہئے۔

وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار برطانوی اخبار’ٹیلی گراف‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ وہ حالیہ انتخابات میں اپنی فتح کو بھارت کے ساتھ ’امن مینڈیٹ‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

برطانوی صحافی ڈیوڈ بلیئر کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن قائم ہونا چاہئے۔ دونوں ممالک کو کشمیر کے مسئلے کا پرامن حال نکالنا چاہئے۔

لیکن، اُن کے بقول، ’اس کے لیے بھارت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اقتصادی کامیابی کے لئے سیکورٹی بنیادی اور لازمی ضرورت ہے‘۔

نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے انتخابات سے قبل اور انتخابات کے بعد بھی بھارت کے خلاف کوئی نعرہ نہیں لگایا۔

اُنھوں نے کہا کہ دونوں ممالک دفاعی سازو سامان پر کافی بڑی بڑی رقمیں خرچ کرچکے ہیں۔ اب دونوں حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ یہ رقم عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کریں۔

نواز شریف نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں ممالک کو ماضی کی غلطیاں بھلا کر مذاکرات کی میز پر آنا چاہیئے۔

اس سوال کے جواب میں کہ پاک فوج ان تعلقات کو قبول کرے گی یا نہیں، نواز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات اور دفاعی بجٹ میں کٹوتی پرحکومت اور فوج کا ایک ہی نکتہ نظر ہے۔
XS
SM
MD
LG