رسائی کے لنکس

ملاقات کے بعد میڈیا سےبات چیت میں، نواز شریف نے بتایا کہ، ’اُنھوں نے کہا کہ میں آپ سے اچھی ورکنگ رلیشن شپ رکھوں گا۔۔۔میں نے کہا کہ آپ صحتیاب ہوں، پھر میں آپ سے ملنے کے لیے آؤں گا۔ یہ باتیں تھیں جو اُن سے ہوئی ہیں۔ اور، آج اُن کے ساتھ مکمل صلح ہوگئی ہے‘

انتخابات سے قبل ہونے والی تلخی دور کرنے کی غرض سے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور ملک کے آئندہ متوقع وزیر اعظم میاں نواز شریف نے منگل کی شام پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ، عمران خان کے ساتھ شوکت خانم اسپتال میں ملاقات اور عیادت کی، اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔

بعدازاں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ اُنھیں خوشی ہے کہ عمران خان صحتیاب ہورہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ کے بقول، }میں نے اُن سے کہا کہ مجھے قطعاً کوئی غصہ نہیں، اور اُنھوں نے مجھے کہا کہ آپ بھی غصہ تھوک دیں، میں بھی غصہ تھوک دیتا ہوں{۔

اُن کے الفاظ میں، ’میں نے کہا مجھے تو غصہ تھا ہی نہیں۔ اُنھوں نے مجھے مبارکباد دی اور میں نے اُن کو خیبر پختونخواہ میں فتح ملی، اُس پر میں نے بھی اُنھیں مبارک باد دی۔‘

میاں نواز شریف نے کہا کہ عمران خان نے اُن سے کہا کہ، اُن کےبقول،’میں آپ سے اچھی ورکنگ رلیشن شپ رکھوں گا۔ اور، مجھے اس بات کی خوشی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ صحتیاب ہوں، پھر میں آپ سے ملنے کے لیے آؤں گا۔ یہ باتیں تھیں جو اُن سے ہوئی ہیں۔ اور، آج اُن کے ساتھ مکمل صلح ہوگئی ہے‘

میاں نواز شریف نے کہا کہ، ’خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی نے سب سے زیادہ نشستیں جیتی ہیں۔ اور حکومت سازی کرنا اُن کا حق بنتا ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن خیبرپختونخواہ میں عمران خان کے مینڈیٹ سمیت دیگر جماعتوں کو جہاں جہاں بھی مینڈیٹ ملا ہے، اُن سب کا احترام کرتی ہے۔

تحریک انصاف کے چیرمین انتخابات سے قبل لاہور کی غالب مارکیٹ میں اپنی جماعت کے انتخابی جلسے میں لفٹر کے ذریعے اسٹیج پر چڑھنے کے دوران گِر کر زخمی ہوگئے تھے، جس کے بعد اُن کے بڑے انتخابی حریف میاں نواز شریف نے اُنھیں ہمدردری کا پیغام بھیجا تھا اور عمران خان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کے ساتھ ساتھ ایک روز کے لیے اپنی انتخابی مہم معطل کردی تھی، اور عمران خان کے خلاف جاری اشتہاری مہم کو بھی روک دیا تھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG