رسائی کے لنکس

نواز شریف ایف آئی اے کی تحقیقات کا سامنا کرنے پر تیار

  • کراچی

نواز شریف

نواز شریف

اپنے بیان میں نواز شریف نے کسی بھی ایجنسی سے پیسے لینے کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ رقوم کی تقسیم سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے ائیر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کا سابقہ ریکارڈ بھی سب کو معلوم ہے

اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں اور انہیں ایف آئی اے کی تحقیقات پر کوئی اعتراض نہیں۔ اُنھوں نے یہ بات پاکستان کے نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام ”کیپیٹل ٹاک“ میں شرکت کے دوران کہی۔

انتخابات میں سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے سے متعلق ائیر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے مقدمے کےمختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ رقم بانٹنے والے اس وقت کے آرمی چیف مرزااسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کے خلاف کارروائی کی جائے اور جن سیاستدانوں نے رقم لی ان سے سود سمیت پیسے واپس لیے جائیں۔

اصغر خان فیصلے کے چھ روز بعد نواز شریف کے بیان کو اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے پانچ روز تک مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار اور مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر قیادت ایف آئی اے کی تحقیقات پر شدید تحفظات ظاہر کرتی رہی ہے اور موقف اپنایا جارہا تھا کہ ایف آئی اے کی جگہ غیرجانبدار کمیشن سے تحقیقات کرانی چاہیے۔

جمعرات کو جاری کیے گئے بیان میں نواز شریف نے کسی بھی ایجنسی سے پیسے لینے کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ رقوم کی تقسیم سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے ائیر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کا سابقہ ریکارڈ بھی سب کو معلوم ہے۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل سابق آرمی چیف اسلم بیگ نے بھی کہا تھا کہ نواز شریف کو پیسے نہیں دئیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اصغر خان کیس میں اسد درانی نے بے نظیر بھٹو کو خط لکھا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ پیپلزپارٹی کے مصطفی کھرنے20لاکھ، حفیظ پیرزادہ نے30لاکھ ، سرورچیمہ نے5لاکھ اورمعراج خالد نے2لاکھ روپے لیے تھے، لیکن پیپلزپارٹی کے ان لوگوں کا کیس میں کہیں ذکر نہیں تھا۔

اسلم بیگ کا مزید یہ بھی کہناتھا کہ آئی ایس آئی کا سیاسی سیل 2008ء میں ختم کیا گیا ، سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے 2008ء میں بھی دھاندلی کی منصوبہ بندی کی تھی جس کے مطابق مسلم لیگ ق کو جتوانا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو آج پرویز مشرف صدر ہوتے اور مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی وزیراعظم۔ تاہم، موجودہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ان کا یہ منصوبہ ناکام بنا دیا۔

اطلاعات کے مطابق، اب مسلم لیگ ن ایف آئی اے کی تحقیقات کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست بھی دائر نہیں کرے گی، البتہ اس بات کے امکانات بڑھ رہے ہیں کہ اسلم بیگ کے مذکورہ بیانات کو جواز بنا کر عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG