رسائی کے لنکس

پاکستان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے

اگرچہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف ان دنوں سعودی عرب کے نجی دورے پر ہیں، لیکن ان کے اس دورے کو بھی سرکاری اہمیت دی جا رہی ہے، خاص طور پر سیاسی اور صحافتی حلقوں میں۔

اس کی ایک مثال نواز شریف کی آمد پر سعودی حکومت کی جانب سے دیا جانے والا غیر معمولی پروٹوکول ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے، ’ایس پی اے‘ کے مطابق شاہی خاندان کی انتہائی اہم شخصیت اور گورنر مکہ پرنس خالد الفیصل کی جانب سے نواز شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ جب سعودیہ آنے والی کسی پاکستانی شخصیت کا استقبال شاہی خاندان کی کسی اہم شخصیت نے کیا ہو، ورنہ اب تک جدہ کے گور مشعال بن ماجد ہی یہ ذمے داری نبھاتے رہے ہیں۔ ان کی حیثیت جدہ کے میئر کے مساوی ہے۔ اس لئے، شہزادہ خالد الفیصل کی آمد، نواز شریف کے شاہی خاندان سے تعلق کی جانب واضح اشارے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

نواز شریف کا وزیز اعظم بننے کے بعد یہ دوسرا غیر ملکی دورہ ہے۔ اپنے پہلے غیرملکی دورے پر وہ چین گئے تھے۔ حالانکہ، پاکستانی میڈیا اور صحافتی حلقوں میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ نواز شریف سعودی عرب سے پہلے چین کے دورے پر کیوں گئے ہیں۔

پاکستانی حکمراں روایتی طور پر سب سے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب جاتے رہے ہیں، اس کے بعد چین کا نمبر آتا ہے۔ لیکن، نواز شریف جو سعودی عرب کے شاہی خاندان سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں ان کا سعودی عرب سے پہلے چین کے دورے پر جانا اپنے آپ میں ایک حیرت تھا۔

ن لیگ کے قریبی ذرائع نے وائس آف امریکہ کے نمائندے کو بتایا کہ وزیراعظم نے ایسا صرف رمضان کی وجہ سے کیا ہے۔ نوازشریف آخری عشرہ مکہ اور مدینہ کی سرزمین پر گزارنے کے خواہشمند تھے۔

نواز شریف نے جون کے پہلے ہفتے میں وزارت عظمی کا حلف اٹھایا تھا۔ اس حوالے سے وہ دو ماہ بعد جمعہ کی رات سعودی عرب پہنچے ہیں۔

سعودی عرب کے پرنٹ میڈیا نے ہفتے کی اشاعت میں بہت نمایاں انداز میں اس دورے کو کوریج دی، جبکہ الیکٹرونک میڈیا بھی نواز شریف کے ذکر سے خالی نہیں رہا۔ اس نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ شاہی خاندان کے خاص تعلق کو بھی خاص طور پر اجاگر کیا۔

نواز شریف کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ وہ مکہ میں عمرے کی ادائیگی کے بعد مدینہ میں پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے روضے پر حاضری دیں گے اور اس کے بعد ان کی ملاقات اعلیٰ ترین سعودی حکام سے ہوگی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG