رسائی کے لنکس

نواز شریف آپریشن کے بعد انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سرجری کے بعد لندن میں اسپتال کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم کے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ ’’چار بائی پاس ہوئے اور ڈاکٹروں نے (نواز شریف) کی اس ہارٹ سرجری کو مکمل طور پر کامیاب قرار دیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی منگل کو لندن کے ایک اسپتال میں ’اوپن ہارٹ سرجری‘ کی گئی۔

وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر اپنے پیغامات میں سے ایک میں کہا کہ ’’سرجری کامیاب رہی ہے۔‘‘

مریم نواز کے ایک بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کو سرجری کے بعد انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔

وزیراعظم نواز شریف کے آپریشن کے حوالے سے مریم نواز اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے ذریعے معلومات فراہم کرتی رہی ہیں۔

سرجری کے بعد لندن میں اسپتال کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم کے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ ’’چار بائی پاس ہوئے اور ڈاکٹروں نے میاں صاحب (نواز شریف) کی اس ہارٹ سرجری کو مکمل طور پر کامیاب قرار دیا ہے اور اس وقت میاں نواز شریف آپریشن تھیٹر سے باہر آ چکے ہیں اور انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا ہے۔‘‘

پاکستان کے وزیراعظم کی یہ سرجری ایسے وقت ہوئی جب رواں ہفتے ملک کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جانا ہے جب کہ اس کے علاوہ پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے حوالے سے بھی حکومت کو چیلنج کا سامنا ہے۔

اپنی سرجری سے ایک روز قبل ہی وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے قومی اقتصادی کونسل اور کابینہ کے خصوصی اجلاسوں کی صدارت کی تھی، جس میں اُنھوں نے اہم فیصلوں کی منظوری دی۔

اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ لندن میں قیام کے دوران سرجری سے قبل نوازشریف اپنے معاونین کی مدد سےحکومت کے اُمور چلاتے رہے ہیں۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ ’اوپن ہارٹ سرجری‘ کے بعد وزیراعظم کتنے دن تک لندن میں قیام کریں گے۔

اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

’’ظاہر ہے صحت یاب ہونے کا ایک سلسلہ ہے اور (اگر) اللہ تعالیٰ نے چاہا تو وہ بہت جلد صحت یاب ہوں گے لیکن اس کے لیے جو کم ازکم وقت (درکار) ہے اس کے لیے ڈاکٹروں کے مشورہ پر عمل کیا جائے گا۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف گزشتہ ماہ بھی اپنے علاج کے لیے لندن گئے تھے لیکن چند روز قیام کے بعد وطن واپس آ گئے تھے۔ تاہم اس مرتبہ جب وہ اپنا طبی معائنہ کروانے کے لیے گئے تو ڈاکٹروں نے ’اوپن ہارٹ سرجری‘ تجویز کی تھی۔

XS
SM
MD
LG