رسائی کے لنکس

نواز، زرداری ملاقات میں جمہوریت کے تسلسل پر اتفاق


سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ وفاق کی بقا جمہوری عمل اور آئین کی بالادستی میں ہے اور اُن کی جماعت سیاسی قوتوں کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی سب بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان اسلام آباد میں بدھ کو ایک اہم ملاقات میں ملک میں جہموری نظام کے تسلسل اور استحکام پر اتفاق کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری سے متعلق مقدمے کے بارے میں حکومت اور فوج کے درمیان تناؤ کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

تاہم ملاقات میں شریک پیپلز پارٹی کے ایک مرکزی رہنما سینیٹر رضا ربانی نے بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا حکومت کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ یہ کوئی ’’بہت سنجیدہ مسئلہ نہیں ہے۔‘‘

رضا ربانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ وفاق پاکستان کی بقا جمہوری عمل اور آئین کی بالادستی میں ہے۔ تمام سیاسی قوتوں کو مل کر اس کو مستحکم بنانا ہو گا، اگر کبھی بھی ایسا وقت آیا تو ہم سیاسی قوتوں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہوں گے۔‘‘

دونوں رہنماؤں کے درمیان وفود کی سطح پر اور بعد میں الگ الگ ملاقات میں ملک کی سیاسی و سلامتی کی صورت کے علاوہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے طالبان سے مذاکرات، انسداد دہشت گردی کے متنازع تحفظ پاکستان آرڈیننس بل کے علاوہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جاری آپریشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

’’قانون سازی کے بارے میں بھی بات کی گئی جو ہمارے (تحفظ پاکستان آرڈیننس کے بارے میں) تحفظات ہیں اُن پر بھی بات کی گئی۔"

اس ملاقات میں آصف زرداری کے ہمراہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے علاوہ سینیٹر رضا ربانی اور جماعت کے ایک اور اہم رہنما مراد علی شاہ بھی شریک تھے۔

جب کہ وزیراعظم کی معاونت کے لیے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر زاہد حامد بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔

واضح رہے کہ ملک کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں 31 مارچ کو فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد حکومت کے بعض وزرا کے تلخ بیانات کے بعد ملک میں عمومی طور پر یہ تاثر پایا جا رہا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان اس معاملے پر کچھ تناؤ ہے۔

بظاہر وفاقی وزرا کے بیانات کے ردعمل جنرل راحیل شریف نے حال ہی میں پاکستانی فوج کے سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے غازی میں مرکز کے دورے کے موقع افسران و جوانوں سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان اندرونی اور بیرونی مشکلات سے دوچار ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ فوج تمام اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اپنے ادارے کے ’وقار کا بھی ہر حال میں تحفظ کرے گی۔‘

دریں اثنا رضا ربانی نے کہا کہ بدھ کو ہونے والی ملاقات میں تحفظ پاکستان آرڈیننس سے متعلق تحفظات دور کرنے کے لیے وزیراعظم نے وفاقی وزیر زاہد حامد کو ہدایت کہ وہ پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں۔

تحفظ پاکستان آرڈیننس کی قومی اسمبلی سے عجلت میں منظوری کے بعد حزب مخالف اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی شدید مخالفت کے بعد نواز شریف انتظامیہ بظاہر اس معاملے پر سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان حالات میں بھی نواز شریف اور آصف علی زرداری کی ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
XS
SM
MD
LG