رسائی کے لنکس

ابتدائی انسانی نسلیں گفتگو کی صلاحیت رکھتی تھیں، تحقیق


ابتدائی انسانی نسلیں گفتگو کی صلاحیت رکھتی تھیں، تحقیق

ابتدائی انسانی نسلیں گفتگو کی صلاحیت رکھتی تھیں، تحقیق

محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ "نین ڈرتھلز" سمیت انسانوں کی صفحہ ہستی سے معدوم ہوجانے والی دیگر ابتدائی نسلوں کے افراد سیدھے ہاتھ سے کام کرنے کا عادی تھے اور ان کے ہاں زبان کا استعمال رائج تھا۔

"نین ڈرتھلز" کو موجودہ انسانی نسل کا جدِ امجد تصور کیا جاتا ہے۔ یورپ اور مغربی و وسطی ایشیاء میں بسنے والے انسانوں کی یہ ابتدائی نسل ہزاروں برس قبل معدوم ہوگئی تھی۔

سائنسدانوں کے درمیان یہ بحث طویل عرصے سے چلی آرہی ہے کہ آیا انسانوں کی ابتدائی نسلیں زبان کے استعمال کی ذہنی وجسمانی صلاحیت کی حامل تھی یا نہیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف کینساس سے منسلک انسانی تاریخ کے ماہر ڈیوڈ فریئر کی سربراہی میں کام کرنے والی ماہرین کی ایک ٹیم "نین ڈرتھلز" اور ان سے بھی پہلے کی انسانی نسل کے افراد کے دانتوں کے فوسلز پر تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ انسانی نسل میں زبان و بیان کا استعمال پانچ لاکھ برس سے رائج ہے۔

محققین کی اس ٹیم نے "نین ڈرتھلز" کے دانتوں پر موجود ان نشانات کا مطالعہ کیا ہے جو سائنسدانوں کے بقول پتھروں کے بنے ہوئے تیز دھار اوزاروں کی وجہ سے نقش ہوئے جو یہ لوگ شکار کیے گئے جانوروں کی کھال اتارنے اور گوشت کے ٹکڑے کرنے کیلیے استعمال کیا کرتے تھے۔

سائنسدانوں کے بقول ابتدائی دور کے یہ لوگ شکار کردہ جانوروں کا گوشت دانتوں سے نوچ کر کھایا کرتے تھے جس کیلیے بعض اوقات انہیں تیز دھار اوزاروں کی مدد بھی لینا پڑتی تھی۔

سائنسدانوں کا کہناہے کہ ان کے پاس موجود انسانی دانتوں کے تمام فوسلز پر ان اوزاروں کے جو نشانات پائے گئے ہیں ان کے زاویوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ اوزار تھامنے کیلیے اپنے دائیں ہاتھ کا استعمال کیا کرتے تھے۔

سائنسدانوں کے مطابق اس انکشاف سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ "نین ڈرتھلز" کا دماغ بھی موجودہ دور کے انسانوں کی طرح دو حصوں میں منقسم تھا جس کا بایاں حصہ ان کے ہاتھوں کے استعمال اور حرکات کو کنٹرول کرتا تھا۔

محققین کی ٹیم کے بقول چونکہ موجودہ انسانی دماغ کا بایاں حصہ ہی زبان کو سمجھنے اور اس کا جواب دینے کی صلاحیت کو کنٹرول کرتا ہے، لہذا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ "نین ڈرتھلز" بھی گفتگو کی صلاحیت رکھتے تھے۔

موجودہ تحقیق کے سامنے آنے سے قبل کئی سائنسدان یہ اصرار کرتے آئے تھے کہ "نین ڈرتھلز" کے منہ کی اندرونی ساخت کچھ ایسی تھی کہ وہ الفاظ کی ادائیگی کے قابل نہیں تھے۔

تحقیق کے سربراہ ڈیوڈ فریئر کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم کی تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانی نسل میں گفتگو اور زبان کے فہم کی صلاحیت خاصی قدیم ہے۔

فریئر کی ٹیم نے جن انسانی دانتوں کے فوسلز پر تحقیق کی انہیں اسپین کے علاقے برگس کے ایک قدیمی غار سے برآمد کیا گیا تھا۔ سائنسدانوں کے مطابق مذکورہ فوسلز پانچ لاکھ سال قدیم ہیں اور ان کا تعلق "یورپی نین ڈرتھلز" کی ابتدائی نسلوں سے ہے۔

تحقیق کیلیے فریئر کی ٹیم نے کروشیا اور فرانس سے ملنے والے انسانی دانتوں کے قدیم فوسلز کا مطالعہ بھی کیا۔ مذکورہ تحقیق برطانوی جریدے "لیٹریلیٹی" میں شائع ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG