رسائی کے لنکس

پاک بھارت امن مذاکرات جاری رہنے چاہئیں: تجزیہ کار


فائل

فائل

’ٹرانزیشنل اسٹرٹیجی گروپ‘ کے صدر، ڈاکٹر دانا مارشل نے تجویز پیش کی ہے کہ دونوں ممالک لائن آف کنٹرول یا سرحد کے آرپار ’معاشی زونز‘ قائم کرکے، ایک دوسرے کے شہریوں کو ملازمتیں فراہم کریں

پاک بھارت تعلقات کی بحالی کے موضوع پر پیر کے روز واشنگٹن میں منعقدہ ایک سمینار کے شرکاٴ کا کہنا تھا کہ تنازعات کے حل سے پہلے، دونوں ملک ’تجارتی تعلقات بحال کرنے کے لئے اکنامک زونز قائم کریں‘۔

’یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹوٹ آف پیس (یو ایس آئی پی)‘ کی سرپرستی میں ہونے والے اس سیمنار سے خطاب میں ’ٹرانزیشنل اسٹرٹیجی گروپ‘ کے صدر، ڈاکٹر دانا مارشل نے تجویز پیش کی ہے کہ دونوں ممالک لائن آف کنٹرول یا سرحد کے آرپار اکنامک زونز قائم کرکے ایک دوسرے کے شہریوں کو ملازمتیں فراہم کریں۔

بقول اُن کے، اس اقدام سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد بحال ہوگا۔

’سنٹر فار پالیسی ریسرچ‘ کے فیلو، صدیق واحد، جن کا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ہے، کہا کہ ’پاک بھارت کشیدگی کی سزاٴ کشمیریوں کو مل رہی ہے‘، اور یہ کہ، ’ہماری سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ اسلام آباد اور دہلی ایک میز پر مل بیٹھیں‘۔

’امریکن انٹرپرائز انسٹیٹوٹ‘ کے فیلو، سدانند دھام کا کہنا تھا کہ مودی حکومت ملکی معاشی ترقی کا منڈیٹ لے کر اقتدار میں آئی ہے۔ بقول اُن کے، ’اگر پاکستان معاشی ترقی کی تجاویز دے تو اس کا ردعمل مثبت ہوگا‘۔

تاہم، یو ایس آئی پی کے ڈائریکٹر ساوٴتھ ایشیا پروگرام، معید یوسف نے پاک بھارت تعلقات کی موجودہ صورتحال پر مایوسی کا اظہار کیا۔

سیمنار میں، پاکستان بھارت تعلقات کی بحالی کے لئے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم، شرکا کی جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے بگاڑ میں ’وہاں کے میڈیا کا کردار زیادہ اہم ہے‘۔

تجزیہ کاروں نے اس بات پر اپنی حیرت کا اظہار کیا کہ تعلقات کی بحالی دونوں ممالک کی ضرورت ہونے کے باوجود، مذاکرات میں تعطل دور کرنے کے لئے اقدامات سامنے نہیں آ رہے۔

گذشتہ سال پاک بھارت جامع مذاکرات کا عمل رُک گیا تھا، جو نومبر 2008ء کے ممبئی حملوں کے بعد 2011ء میں پھر استوار ہوا تھا؛، جس کے لیے دونوٕں ملک ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG