رسائی کے لنکس

قبائلی علاقے میں خواتین کی تعلیم کے لیے کوشاں ایک لڑکی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

چھبیس سالہ رائنا گل نے باجوڑ ایجنسی کی تمام لڑکیوں کو تعلیم دلانے کا عزم کیا ہے۔ ان کا خواب ہے کہ ان کے علاقے کی ہر لڑکی اسکول جائے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں خواتین عام طور سے تعلیم سے محروم رہتی ہیں۔ ان علاقوں میں بسنے والے قبائل میں عموماً لڑکیوں کی تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اہمیت لڑکوں کیلئے مخصوص ہے۔

باجوڑ سے تعلق رکھنےوالی رائنا گل نامی نوجوان خاتون نے اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کے قبائلی علاقے 'باجوڑ ایجنسی' میں 'رائزنگ وومن آف پاکستان' نامی ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم بنانے کا سوچا۔

چھبیس سالہ رائنا گل نے باجوڑ ایجنسی کی تمام لڑکیوں کو تعلیم دلانے کا عزم کیا ہے۔ ان کا خواب ہے کہ ان کے علاقے کی ہر لڑکی اسکول جائے۔

رائنہ کہتی ہیں کہ "قبائلی علاقوں کے لوگ آج بھی 100 سال قدیم فرسودہ روایات میں الجھے ہوئے ہیں جب معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم کی کوئی اہمیت نہیں تھی"۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'گلف نیوز' کو دیےگئے انٹرویو میں رائنا کہتی ہیں کہ باجوڑ کے لوگ اپنی بچیوں کو اسکول نہیں بھیجتے، میرے لئے یہ ایک تشویشناک بات ہے۔ جب میں خود طالبہ تھی تو میں نے یہ سوچ لیا تھا کہ اپنے شہر میں لڑکیوں کو مفت تعلیم دینے کیلئے اپنے آبائی علاقے میں ایک اسکول کھولوں گی۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ طالبان لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں ہیں، قبائلی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے یہ ایک منفی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے جس سے پاکستان کا امیج دنیا میں خراب ہورہاہے۔

رائنہ کے بقول حقیقت یہ ہے کہ والدین میں تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے کوئی آگاہی نہیں ہے اس لئے لڑکیوں کی تعلیم کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، لڑکیوں کی تعلیم کیلئے والدین کو قائل کرنے اور سوچ بدلنے کی ضرورت ہے"۔

ان کی ایک طالبہ 14 سالہ فاطمہ کا کہنا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا اور اسکول جانا میرا ایک خواب ہے۔ مگر ہمارے علاقے 30 کلومیٹر دور تک لڑکیوں کا کوئی اسکول نہیں تھا۔ اب مس رائنا نے ہم جیسی لڑکیوں کیلئے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے۔

رائنا کہتی ہیں کہ پاکستان میں معیشت ہو، فوج ہو، انجینئرنگ ہو یا کوئی بھی حکومتی ادارہ، خواتین ہر سطح پر ایک اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ ہم اہنے ملک میں خواتین کے کردار کی نفی نہیں کرسکتے۔

لڑکیوں کی تعلیم کیلئے ایک ادارہ بنانے کے بعد رائنا باجوڑ میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے کوششیں کررہی ہیں۔ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی تنظیم کیلئے باجوڑ ایجنسی سے پشاور اور اسلام آباد جاکر حکومتی افسران، سیاستدانوں اور دیگر متعلقہ افراد سے رابطے میں ہیں۔

رائنا نے اب تک دو اسکول کھولے ہیں جن میں لگ بھگ 200 لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔
ان اسکولوں میں مفت تعلیم اور مفت کتابیں دی جاتی ہیں کیونکہ لوگ غریب ہیں جن کے پاس اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کلئے کوئی معاشی ذریعہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شروع میں والدین اپنی بچیوں کو اسکول بھیجنے کیلئے راضی نہیں تھے۔ مگر اب والدین کی جانب سے لڑکیوں کو تعلیم دلانے کیلئے بھیجا جارہاہے جوکہ بہت خوش آئند بات ہے۔

رائنا علی نے یہ جذبہ اپنے والدین سے حاصل کیا۔ ان کی والدہ اور والد دونوں پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔ رائنا گل کا عزم ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے علاقے کے لوگوں کیلئے کام کریں گی جہاں وہ پیدا ہوئیں اور پلی بڑھی ہیں۔

چھبیس سالہ رائنا گل نے پشاور کی گندھارا یونورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری لی ہے۔
XS
SM
MD
LG