رسائی کے لنکس

قانون سازوں نے رات کو بھاری اکثریت سے آئین کی منظوری دی جس کے تحت ملک کو سات ریاستوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں سے ہر ایک کی اپنی مقننہ ہو گی۔

ایک دہائی تک سیاسی کشمکش اور پرتشدد احتجاج کے بعد نیپال کی آئین ساز اسمبلی نے نیا آئین منظور کر لیا ہے۔

مگر اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ قوم کا نیا سیاسی ڈھانچہ ایک طویل تنازعے کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ کچھ نسلی اقلیتیں نئے آئین کے خلاف مظاہرے کر رہی ہیں۔

قانون سازوں نے رات کو بھاری اکثریت سے آئیں کی منظوری دی جس کے تحت ملک کو سات ریاستوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں سے ہر ایک کی اپنی مقننہ ہو گی۔

کچھ نسلی گروہوں کا کہنا ہے کہ ریاستوں کی سرحدوں کے تعین کے بارے میں ان کے تحفظات کو نظر انداز کر دیا گیا جبکہ چند سیاسی گروہ ملک کو ہندو ریاست قرار دینا چاہتے تھے۔

نئے آئین کے خلاف کئی ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں جن میں سے کچھ پرتشدد صورت اختیار کر گئے۔ مظاہروں میں ہونے والے تشدد سے 44 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

برت نگر شہر میں بدھ کو مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے۔

سابق الیکشن کمشنر اور تجزیہ کار بھوج راج پوکھرل کا کہنا ہے کہ نیپال کا مستقبل اب اس بات پر ’’منحصر ہے کہ ہر ریاست کس طرح کام کرتی ہے اور کس ردعمل کا اظہار کرتی ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG