رسائی کے لنکس

نیپال میں دو ماہ قبل آنے والے تباہ کن زلزلے میں 8800 سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں متاثر ہوئے تھے، ملک میں تاریخی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

عطیہ دینے والے ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے نیپال میں تباہ کن زلزلے کے بعد بحالی میں مدد دینے کے لیے تین ارب ڈالر فراہم کرنے کا عزم کیا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ امداد دو پڑوسی ملکوں بھارت اور چین کی طرف سے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے نیپال کے غیر متزلزل عزم کی تعریف کرتے ہوئے ایک ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔

جمعرات کو کٹھمنڈو میں ہونے والی بین الاقوامی ڈونرز کانفرنس میں بھارت کی طرف سے ایک ارب ڈالر کی فراہمی کا اعلان کسی ایک ملک کی طرف سے وعدہ کردہ سب سے زیادہ امداد ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے 48 کروڑ تیس لاکھ ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک نیپال میں پائیدار ترقی کے لیے پرعزم ہے۔

نیپال میں دو ماہ قبل آنے والے تباہ کن زلزلے میں 8800 سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں متاثر ہوئے تھے، ملک میں تاریخی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

جاپان نے کانفرنس میں 26 کروڑ، امریکہ نے 13 کروڑ اور یورپی یونین نے دس کروڑ دینے کا عزم کیا۔ عالمی بینک نے 50 جب کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے 60 کروڑ ڈالر کا اعلان کیا گیا۔

نیپال نے زلزلے سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے چھ ارب 70 کروڑ ڈالر کا تخمینہ لگایا تھا۔

اربوں ڈالر کی امداد کے وعدوں کے بعد ان تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ ایک عرصے سے سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی سے نبرد آزما ملک نیپال اس امداد کو کس حد تک شفاف انداز میں استعمال کرے گا۔

ورلڈ بینک کے صدر جم یونگ کم نے اپنے وڈیو پیغام میں کہا کہ "یہ صرف پیسے کی بات نہیں۔۔۔جو چیز اہم ہے وہ یہ کہ یہ فنڈز کس طرح استعمال ہوتے ہیں۔"

نیپال کے وزیراعظم سوشیل کوئرالا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ یقین دلایا کہ ان کی حکومت بدعنوانی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور امداد کو ضرورت مندوں تک پہنچانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔

XS
SM
MD
LG