رسائی کے لنکس

نیپال کے نئے وزیرِاعظم ماؤ نواز رہنما


نیپال کے نئے وزیرِاعظم ماؤ نواز رہنما
نیپال کے نئے وزیرِاعظم ماؤ نواز رہنما

نیپال میں سابق ماؤ نواز باغیوں کی سیاسی جماعت کے نائب سربراہ نے پیر کو ملک کے نئے وزیرِاعظم کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔

بابو رام بھٹاری نے اتوار کو 601 رکنی پارلیمان میں ہونے والی رائے شماری کے دوران 340 ووٹ حاصل کیے تھے۔ انتخاب میں انہیں کئی چھوٹی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔

نو منتخب وزیرِاعظم نے اپنے نائب کی حیثیت سے حکمران اتحاد سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان کے نام کا اعلان کیا ہے جبکہ کابینہ کے دیگر عہدوں پر نامزدگیوں کے لیے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیے جارہے ہیں۔

57 سالہ بھٹاری سابق وزیرِاعظم جھل ناتھ کھنّل کی جگہ سنبھالیں گے جنہوں نے نیپال کے امن عمل کو آگے بڑھانے میں ناکامی کےبعد 14 اگست کو اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

نیپال کی حکومت جون 2010ء سے بحرانی کیفیت سے دوچار ہے جب وزیرِاعظم مدھوو کمار نیپال کو ماؤ نواز حزبِ مخالف کے دباؤ پر عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

ماؤ نواز باغیوں کو 2006ء میں طے پانے والے ایک امن معاہدے کے تحت سیاسی عمل میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی جس کےبعد ہونے والے انتخابات میں وہ پارلیمان کی اکثریتی جماعت بن کر ابھرے ہیں تاہم انہیں حکومت سازی کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل نہیں۔

مذکورہ معاہدے کے تحت ماؤ نوازوں کی ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی مزاحمت کا خاتمہ ہوگیا تھا جس کے دوران 13 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

تاہم نیپال کی سیاسی جماعتوں کے مابین موجود شدید اختلافات کے باعث امن عمل پر پیش رفت تعطل کا شکار ہے۔ سیاسی جماعتوں کے مابین نئے ملکی آئین کی خدوخال اور ان 19 ہزار ماؤ گوریلوں کے مستقبل کے معاملات پر اختلافات پائے جاتے ہیں جو بغاوت کے خاتمے کے بعد سے کیمپوں میں مقیم ہیں۔

XS
SM
MD
LG