رسائی کے لنکس

نیپال میں ماؤ نوازوں نے ہڑتال ختم کردی

  • پرویز حفیظ

غیر ملکی سیاح تفریح گاہوں کی طرف رُخ کرنے لگے

غیر ملکی سیاح تفریح گاہوں کی طرف رُخ کرنے لگے

ماؤنواز عناصر کی توقع کے برعکس اِس بار اُن کی ہڑتال کو عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔ وزیرِ اعظم نے ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ماؤنواز جماعت کے لیڈروں کو محاذ آرائی ختم کرکے مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی ہے

ماؤنواز عناصر نے نیپال میں چھ دن کے بعد اپنی غیر معینہ ہڑتال ختم کردی ہے اورہفتے کی صبح سے ملک میں روزمرہ کی زندگی واپس معمول پر لوٹنے لگی ہے۔

ملک گیر ہڑتال اتوار سے شروع ہوئی تھی اور چھ دِنوں تک چلی جس کے سبب عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ ملک میں ضروری اشیا کی قلت ہونے لگی تھی اور ٹرانسپورٹ کا نظام ٹھپ پڑجانے کی وجہ سے عام شہری ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے سے قاصر تھے۔ دوکانیں، بازار اور جمعے سے کارخانوں کے بدھ ہوجانے کے وجہ سے غریب ملک کی معیشت کو بھاری نقصان ہو رہا تھا۔

یونیفائیڈ کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤنواز) کے سربراہ، پشپ کمل دہال نے وزیرِ اعظم مادھیو کمار پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر ملک میں غیر معینہ ہڑتال کروائی تھی۔ اُنھیں عوام کے دباؤ کے آگے جھکنا پڑا اور ہڑتال واپس لینے کااعلان کرنا پڑا۔ دراصل ماؤنواز عناصر کی توقع کے برعکس اِس بار اُن کی ہڑتال کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔

گذشتہ دِنوں سے عام لوگ ہڑتال کی مزاحمت کرنے لگے تھے اور جمعے کے دِن تو اُن کے صبر کا پیمانا اتنا لبزیر ہوگیا کہ ہزاروں کی تعداد میں نیپال کے عام شہری ہڑتال کی مخالفت میں کاٹھمنڈو کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ اُنھوں نے ماؤنواز عناصر کو 48گھنٹوں کے اندر اندر ہڑتال ختم کرنے کا الٹی میٹم بھی دے دیا تھا۔

اِس عوامی مظاہرے کے بعد ماؤنواز جماعت کے لیڈروں نے کئی گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد جمعے کو رات دیرگئے ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

پشپ کمل دہال ہفتے کی شام میں کاٹھمنڈو میں ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرکے اپنے فیصلے کی وضاحت کرنے والے ہیں۔ وضاحت خواہ کچھ بھی ہو، نیپال کے شہریوں نے ہڑتال ختم ہوجانے سے سکون کی سانس لی ہے۔ کاٹھمنڈو کی سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے، دوکانیں کھل گئی ہیں اور بازار میں چہل پہل لوٹ رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ماؤنواز جماعت کے لیڈروں کو محاذ آرائی ختم کرکے مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی ہے۔

XS
SM
MD
LG