رسائی کے لنکس

نیپال: پولیس امریکی شہری کی لاش ڈھونڈنے میں مصروف


نیپالی پولیس (فائل فوٹو)

نیپالی پولیس (فائل فوٹو)

پولیس کے مطابق ڈاہلیا جولائی میں نیپال آئی تھیں اور چار اگست کو پوکھرا پہنچیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس کے تین روز بعد ہی انھیں قتل کر دیا گیا۔

نیپال کی پولیس ایک دریا میں اس امریکی خاتون کی لاش تلاش کرنے میں مصروف ہے جسے قتل کرنے کے بعد یہاں پھینک دیا گیا تھا۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے علاقے آسٹن سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ ڈاہلیا یئہیا گزشتہ ماہ مغربی نیپال کے علاقے پوکھرا سے لاپتا ہوگئی تھیں۔ وہ یہاں اپریل میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے متاثر ہونے والوں کی امداد کے لیے آئی ہوئی تھیں اور پیشے کے اعتبار سے استانی تھیں۔

منگل کو پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار ہری بہادر پال نے بتایا کہ سیٹی دریا میں لاش کی تلاش کی کارروائی جاری ہے۔

پولیس نے امریکی خاتون کے میزبان ایک مقامی استاد نارائن پاؤدل کو بھی حراست میں لے رکھا ہے۔

ہری بہادر کا کہنا تھا کہ پاؤدل نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے ہتھوڑے کے وار سے ڈاہلیا کو قتل کیا اور پھر اس کی لاش کو دریا میں پھینک دیا۔

ان کے بقول جہاں ممکنہ طور پر ڈاہلیا کو باندھ کر رکھا گیا تھا وہاں سے پولیس نے خون آلود کپڑے اور رسیاں بھی برآمد کی ہیں۔

ہری بہادر نے کہا کہ حکام ملزم کو سخت ترین سزا یعنی عمر قید دلوانے کی کوشش کریں گے لیکن اس مقدمے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلے لاش کا ملنا بہت ضروری ہے۔

پولیس کے مطابق ڈاہلیا جولائی میں نیپال آئی تھیں اور چار اگست کو پوکھرا پہنچیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس کے تین روز بعد ہی انھیں قتل کر دیا گیا۔

اب تک کی تفتیش سے پولیس کے مطابق اس قتل کی وجہ رقم کا حصول تھا کیونکہ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے ڈاہلیا سے پیسے لیے تھے۔

25 اپریل کو آنے والے زلزلے سے کم ازکم آٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔ دنیا بھر سے امدادی گروپ اور نجی حیثیت میں بہت سے افراد نے مثاترین کی مدد کے لیے یہاں کا رخ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG