رسائی کے لنکس

نیپال سیاسی بحران: وزیرِ اعظم مستعفی

  • پرویز حفیظ

نیپال میں سیاسی تعطل کو ختم کرنے کےلیے ملک کے وزیرِ اعظم مدھیو کمار نیپال نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کو اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں مسٹر نیپال نے کہا کہ وہ امن عمل کی راہ ہموار کرنے کے لیے سبکدوش ہو رہے ہیں، جِس کے باعث ایک عشرے سے جاری بغاوت کا خاتمہ ہوا اور سابق باغیوں کوحکومت میں شامل ہونے کا موقع ملا۔

ماؤنوازپارٹی جِس کی پارلیمان میں اکثریت ہے مسٹر نیپال کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی رہی ہے تاکہ وہ قومی حکومت کی قیادت کرتے ہوئے دوبارہ حکومت میں آسکے۔ ماؤ نوازوں کے مطالبوں کی وجہ سے ملک کا نیا آئین بنانے کے کام میں اگلے سال مئی تک کی تاخیر ہوچکی ہے۔

گزشتہ سال وزیرِ اعظم نیپال اُس وقت اقتدار میں آئے جب قومی فوج میں سابق ماوٴنوازوں کے انضمام کے معاملے پر تنازع اُٹھ کھڑا ہوا اور ماؤنواز حکومت سبکدوش ہوگئی۔

بدھ کے روز ماؤنوازوں نے وزیرِ اعظم کے استعفے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کی تائید کے ساتھ ایک نئی قومی حکومت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

تاہم، تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ سیاسی کثرتِ رائے کے حصول کا کام مشکل ہوگا۔ نئے اتحاد میں شمولیت سے پہلے دیگر سیاسی جماعتوں کی خواہش ہے کہ ماؤنواز اپنے کیمپ ختم کردیں ۔ اب تک ماؤنواز پارٹی نے اِس مطالبے کو مسترد کیا ہے۔

سال 2006ء میں ماؤنوازوں نے ایک عشرے سے جاری بغاوت کو ختم کیا اور 2008ء کے انتخابات میں فتح حاصل کی۔ لیکن وہ پارلیمنٹ میں درکار اکثریت حاصل نہ کر سکی۔

XS
SM
MD
LG