رسائی کے لنکس

نیپال نے دس تبّتی باشندوں کو اقوامِ متحدہ کے سُپرد کر دیا


نیپال نے دس تبّتی باشندوں کو اقوامِ متحدہ کے سُپرد کر دیا

نیپال نے دس تبّتی باشندوں کو اقوامِ متحدہ کے سُپرد کر دیا


نیپال کے حکام نے نیپال کے اُن دس باشندوں کو جو غیر قانونی طریقے سے چینی سرحد عبور کر کے نیپال میں داخل ہوئے تھے، پناہ گزینوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کی ایجنسی کے حوالے کر دیا ہے۔

نیپالی عہدے داروں نے اس سے پہلے خبردار کیا تھا کہ ان آٹھ مردوں اور دو عورتوں کو واپس چین بھیجا جاسکتا ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز ان افراد کو حراست میں لے لیا تھا اور اس بارے میں اُن سے پوچھ گچھ کی تھی کہ انہوں نے کن وجوہات کی بِنا پر سرحد پار کی تھی۔

ہر سال تبّت کے سینکڑوں لو گ چین سے سرحد پار کر کے نیپال میں داخل ہوتے ہیں، جہاں سے وہ بھارت جانے کے لیے پہاڑوں پر خطرناک سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ جہاں اُن کے روحانی لیڈر دلائى لاما جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

نیپال ماضی میں تبّتی زائرین کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت دیتا رہا ہے۔

لیکن نیپال کو ملک میں مقیم تبت کے اُن لوگوں کی پکڑ دھکڑ کے لیے چین کے دباؤ کا سامنا بھی ہے، جو تبّت پر چین کی حکمرانی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ نیپال کی حکومت نے پچھلے سال اس قسم کے مظاہروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

نیپال میں تبّت کے لگ بھگ 20 لاکھ جلا وطن لوگ آباد ہیں ۔ ان لوگوں نے 1959ء میں چین کے خلاف ایک ناکام بغاوت کے بعد اپنے وطن سے فرار ہونا شروع کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG