رسائی کے لنکس

نیپال: کم سن فوجیوں کو آزاد کردیا گیا

  • پرویز حفیظ


جنوبی نیپال کے ایک کیمپ سے کم سن فوجیوں کے ایک بڑے گروپ کو جمعرات کے دن آزاد کردیا گیا تاکہ وہ ایک نئی زندگی کا آغاز کرسکیں۔

200سے زیادہ لڑکوں پر مشتمل یہ گروپ اُن تین ہزار نوعمر سابق سپاہیوں کے ایک بڑے گروپ کا حصہ ہے جو ملک میں دس برسوں تک چلنے والی خانہ جنگی میں ماؤنواز گوریلاؤں کی طرف سے لڑ رہے تھے۔ یہ خانہ جنگی 2006ء میں شہنشاہ گیانند کی حکومت کے خاتمے کے بعد ختم ہوئی۔

یہ تین ہزار کم سن سپاہی اور 20000دیگر گوریلا ماؤنواز پیپلزلبریشن آرمی میں شامل تھے جنھوں نے نیپال سے بادشاہت کے خاتمے کے لیے پُر تشدد جنگ میں حصہ لیا تھا۔

نیپال میں امن عمل کے تحت اِن سابق گوریلاؤں کو مختلف کیمپوں میں رکھا گیا ہے جِن کی نگرانی اقوامِ متحدہ کے اہل کاروں کے ذمے ہے۔ کم عمر سپاہیوں کی رہائی کو اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے امن کے عمل کی راہ میں سنگِ میل قرار دیا ہے۔
ماؤ نوازوں کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے تحت اِن نوخیز سپاہیوں کی باضابطہ آبادکاری کی جائے گی اور اُنھیں حکومت کی جانب سے ایک نئی زندگی شروع کرنے کے لیے ہر ممکن امداد دی جائے گی، جب کہ 20ہزار دوسرے گوریلاؤں کو نیپال کی فوج میں بھرتی کرلیا جائے گا۔

حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے بارہا ماؤنوازوں پر الزام عائد کیا ہے کہ اُنھوں نے اپنی گوریلا فوج میں اِن کم عمر لڑکوں کو جبراً بھرتی کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG