رسائی کے لنکس

نیتن یاہو امریکہ میں اسرائیل کے حامی گروپ سے خطاب کریں گے


نیتن یاہو

نیتن یاہو

نیتن یاہو نے گزشتہ برس بھی امریکن اسرائیلی پبلک افئیرز کمیٹی سے خطاب کیا تھا۔ تاہم اس بار وہ یہ کام امریکی کانگریس سے خطاب سے پہلے کر رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کانگریس سے خطاب سے ایک روز قبل پیر کو واشنگٹن میں اسرائیل کی حامی ایک تنظیم کی کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ مسٹر نیتن یاہو کا یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ اُن کے تعلقات میں تناؤ سبب بنا۔

نیتن یاہو نے گزشتہ برس بھی امریکن اسرائیلی پبلک افئیرز کمیٹی سے خطاب کیا تھا۔ تاہم اس بار وہ یہ کام امریکی کانگریس سے خطاب سے پہلے کر رہے ہیں۔

ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریس اسپیکر جان بوئینر نے پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکی صدر سے مشورہ کئے بغیر ہی اسرائیلی وزیرِاعظم کو کانگریس سے خطاب کرنے کی دعوت دے دی تھی۔

تاہم امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے امریکی صدر اور کانگریس کے درمیان اختلافات کے تاثر کو رد کرنے کی کوشش کی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وہ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس میں اسرائیل کی حمایت کریں گے۔

اے بی سی ٹیلی وژن کے پروگرام ’’This week‘‘میں اتوار کو بات کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’’اسرائیلی وزیرِاعظم کے امریکہ میں خطاب کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔ سیکورٹی کے معاملے میں اس وقت اسرائیل کے ساتھ ہمارے تاریخی طور پر نہایت گہرے مراسم ہیں۔‘‘

کانگریس میں اس وقت ریپبلیکن پارٹی کی اکثریت ہے۔

اسپیکر جان بوئینر کے اس اقدام سے امریکیوں میں اختلاف پیدا ہوا ہے۔بڑے نشریاتی اداروں ’این بی سی اور وال سٹریٹ جرنل‘ کے ایک سروے کے مطابق نصف کے قریب (48 فیصد) امریکیوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو اطلاع دیئے بغیر اسرائیلی وزیرِ اعظم کو دعوت نہیں دی جانی چاہیئے تھی۔

تیس فیصد افراد نے کہا کہ یہ دعوت نامہ قابلِ قبول جبکہ 22 فیصد نے اس سلسلے میں کوئی رائے نہیں رکھتے۔

نیتن یاہو نے امریکہ سمیت چھ ممالک کی ایران کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری پرواگرام پر سمجھوتے میں نرمی کا مظاہرہ کیا جائے گا جس کی بدولت ایران ایٹم بم بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران کی ایٹمی طاقت سے اسرائیل کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

ایران نے متعدد بار دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ مذاکرات میں موجود افراد کسی قسم کی تفصلات بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔

’اے بی سی‘ نیوز سے بات کرتے ہوئے جان کیری نے کہا امریکہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا سفارت کاری کے ذریعے ایران کو ہتھیار بنانے سے روکا جا سکتا ہے کہ نہیں تا کہ امریکہ کو فوجی طاقت کے استعمال سمیت دوسرے اقدام نہ اٹھانے پڑیں۔ ’’ہمارا خیال ہے کہ سفارت کاری یہ کام کرنے میں کامیات ہو سکتی ہے۔‘‘

ایران سے مذاکرات کرنے والے ممالک میں امریکہ کے علاوہ برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس شامل ہیں۔

ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے کرنے کیلئے 30 جون کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے بدلے میں ایران یورینیم کی افزودگی بند کر دے گا۔

XS
SM
MD
LG