رسائی کے لنکس

سلامتی کونسل کی 'اسرائیل مخالف' قرارداد قبول نہیں: نیتن یاہو


اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو مغربی کنارے اور مشرقی یروشیلم میں یہودی بستیوں کے لیے تعمیرات بند کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور ہونے والی قرارداد پر خاسے برہم ہیں اور انھوں نے یہ قرارداد پیش کرنے والوں میں شامل دو ممالک (نیوزی لینڈ اور سینیگال) سے اپنے سفراء کو واپس طلب کیا ہے۔

ہفتہ کو نیتن یاہو نے حکم دیا کہ ان دونوں ملکوں سے اسرائیلی سفیر وطن واپس آئیں جس کی وجہ ان سے مشاورت بتائی گئی ہے۔

جمعہ کو یہودی بستیوں کی تعمیرات رکوانے سے متعلق رائے شماری کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس ان دو ممالک کے علاوہ وینزویلا اور ملائیشیا کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔

مصر بھی اس کے حق میں تھا لیکن صدر عبدالفتاح السیسی اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد جمعرات کو قاہرہ اس عمل سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔

سلامتی کونسل میں یہ قرارداد منظور کر لی گئی اور روایتی طور پر اسرائیل کی حمایت کرنے والا ملک امریکہ اجلاس سے غیر حاضر رہا۔

اسرائیل کے وزیراعظم نے اپنے فوری ردعمل میں ایک بیان میں کہا کہ "ان کا ملک اس شرمناک اسرائیل مخالف قرارداد کو مسترد کرتا ہے اور اس پر عملدرآمد نہیں کرے گا۔"

وائٹ ہاؤس کے نائب مشیر برائے قومی سلامتی بین روہڈز نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ، اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا ہے لیکن اس (اسرائیل) کی حکومت تواتر سے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر آبادکاری سے متعلق واشنگٹن کے تحفظات سے صرف نظر کرتی آرہی ہے۔

"ہم نے ہر طرح سے کوشش کی۔۔۔لیکن اس کا ایک جیسا ہی نتیجہ نکلا کہ یہ کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔"

ادھر فلسطین کے اعلیٰ مصالحتکار صائب عریقات نے سلامتی کونسل کی قرارداد کو سراہتے ہوئے اسے "فلسطین کے موقف کے لیے منصفانہ فتح قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر ثابت قدم رہے اور کسی "منفی خطرے کی پرواہ نہ کرے۔"

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG