رسائی کے لنکس

مسٹر نیتن یاہو نے اسرائیلی کابینہ کو بتایا کہ اسرائیل کو فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے پر افسوس ہے۔ لیکن،اُنھوں نے کہا کہ ’اِس کی ذمہ دار حماس ہے‘

اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار حماس کو قرار دیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ شدت پسند اسپتالوں کے نیچے دھماکہ خیز مواد چھپا رہے ہیں، جس مقصد کے لیے وہ غزہ کے باسیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

ایسے میں جب یہودی ریاست نے اتوار کو کارروائی کے چھٹے روز، غزہ پر بمباری کے رقبے کو وسیع کر دیا ہے، مسٹر نیتن یاہو نے اسرائیلی کابینہ کو بتایا کہ اسرائیل کو فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے پر افسوس ہے۔ لیکن،اُنھوں نے کہا کہ اِس کی ذمہ دار حماس ہے۔


بقول اُن کے، ’مسجدوں میں کون چھپا ہوا ہے؟ حماس۔ اسپتالوں کی نیچے کون مہلک اسلحہ رکھتا ہے؟ حماس۔ کون اپنے ہیڈکوارٹرز کو رہائشی علاقوں یا پرائمری اسکولوں کے قریب قائم کرتا ہے؟ حماس۔ حماس غزہ کے باسیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے، اور غزہ کے شہریوں کے لیے تباہی لاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ غزہ کے شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری حماس پر آتی ہے؛ جس کا اسرائیل کو افسوس ہے۔ لیکن، اس کی ذمہ داری حماس اور اُس کے ساتھیوں پر عائد ہوتی ہے‘۔


اسرائیل کی اس کارروائی کا مقصد حماس کی طرف سے اسرائیل پر کیے جانے والے راکٹ حملوں کو بند کرانا ہے۔

فلسطینی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہونے والی ہلاکتیں بڑھ کر 160 ہوگئی ہیں، جس مین شدت پسند، خواتین اور بچوں سمیت 1000سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

جاری فضائی حملوں کے علاوہ، اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے پہلی زمینی کارروائی کی، جس مختصر دورانئے کےچھاپے میں کمانڈوز نے اُس مقام کو نشانہ بنایا جہاں سے راکٹ داغے جا رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینی جنگجوؤں کے ساتھ گولیوں کے تبادلے میں چار اسرائیلی فوجی معمولی زخمی ہوئے۔

شمالی غزہ میں رات گئے کی جانے والی اس بڑی کارروائی کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی علاقے سے بھاگ نکلے، اس خیال میں کہ اُنھیں جنوب میں واقع رہائشی علاقے میں کہیں محفوظ ٹھکانہ میسر آجائے گا۔

اتوار کے دِن، متعدد غیر ملکی اور دو شہریتں رکھنے والے فلسطینی غزہ پٹی کو مکمل طور پر چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے فلسطینیوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے علاقے کو خالی کردیں، کیونکہ اِن فضائی حملوں میں شدت آسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG