رسائی کے لنکس

یہ دوا چھاتی کے ٹرپل نیگیٹو کینسر، بچہ دانی کے کینسر اور پھیپھٹروں کے خلیوں کے کینسر میں مفید ہے جن کا علاج عام حالات میں بہت مشکل ہوتا ہے۔

ایک نئی دوا تیاری کے مراحل میں ہے جو کینسر کی ان اقسام کے خلاف بہت مؤثر ثابت ہوگی جن پر قابو پانا ابھی تک دشوار سمجھا جاتا ہے۔

ان دنوں نئی دوا کے لیبارٹری تجربات جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربات مثبت رہے تو نئی دوا بعض اقسام کے کینسر میں مبتلا لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہے۔

ایک بڑی دوا ساز کمپنی فائزراور کیلی فورنیا میں قائم اب وی کمپنی کے ایک بائیو ٹیک ادارے سٹم سینٹرکس نے یہ منفر د دوا تیار کی ہے جو چھاتی، پھیپھٹروں اور بچہ دانی کے کینسر کے خلاف انتہائی تیزی سے کام کرتی ہے۔

فائزر کمپنی کے مارک ڈامیلن اس دوا پر کام کررہے ہیں جسے اس وقت پی ایف 06647020 کا نام دیا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ اسکائپ انٹرویو میں مارک ڈامیلن نے بتایا کہ ہمیں توقع ہے کہ یہ دوا کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کینسر کا صفایا کرتی ہے جس طرح آپ اپنے باغیچے سے غیر ضروری جڑی بوٹیاں اکھاڑ کر پھینک دیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ دوا چھاتی کے ٹرپل نیگیٹو کینسر، بچہ دانی کے کینسر اور پھیپھٹروں کے خلیوں کے کینسر میں مفید ہے جن کا علاج عام حالات میں بہت مشکل ہوتا ہے۔

ڈامیلن کا کہنا تھا کہ یہ دوا اپنے تجربات کے دوران چوہوں اور بندروں پر مؤثر اور محفوظ ثابت ہو چکی ہے اور ان دنوں انسانوں پر تجربات کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دوا ایک گائیڈڈ میزائل کی طرح ہے جو کینسر زدہ خلیے کو اپنا ہدف بناتی ہے۔

سٹم سینڑکس کے ایک ماہر ڈیلیا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایک اینٹی باڈی مالیکیول نتھی کر دیا جاتا ہے اور اسے اس کینسر زدہ خلیے تک پہنچا دیا جاتا ہے جو میزائل کی طرح اس میں داخل ہو جاتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ اینٹی باڈی کے ساتھ کینسر کے خلاف لڑنے والی دوا بھی شامل ہوتی ہے تو وہ کیموتھراپی کے انداز میں براہ رأست کینسر پر حملہ کرتی ہے اور اسے ختم کر دیتی ہے۔ یہ دوا کیمو تھراپی کی جگہ لے سکتی ہے۔

اس دوا کو متاثرہ خلیوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جانے والا’ میزائل‘ اصل میں پی ٹی کے 7 نامی ایک پروٹین ہے۔ یہ پروٹین کینسر کے خلیوں میں کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

اس دوا کے تجربات ان مریضوں پر کیے جا رہے ہیں جن پر دوسری دوائیں کار گر ثابت نہیں ہوئیں تھیں۔ ڈامیلن کا کہنا ہے کہ بچہ دانی کے کینسر کے ایک تہائی مریضوں کے نتائج مثبت رہے ہیں۔

ڈیلیا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چھاتی اور پھیپھڑوں کے مخصوص کینسر کے مریضوں پر تجربات بھی حوصلہ افزا ہیں۔

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پی ایف 06647020 نامی دوا مخصوص قسم کے کینسر کے علاج میں انقلابي تبدیلی لائے گی اور اس موذی مرض میں مبتلا مریضوں کی زندگیوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہو جائے گا۔

XS
SM
MD
LG