رسائی کے لنکس

کامک سیریز کی کہانی کے تین مرکزی کردار دانیال، میکائل اور نتاشا ہیں۔ یہ تنیوں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے کے باوجود بہت اچھے دوست بن جاتے ہیں، کیونکہ ان تینوں کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا

ماضی کے ایک حکمراں نے کہا تھا کہ ’مجھے تلوار سے نہیں قلم سے ڈر لگتا ہے‘۔

اس دور میں قلم اسی قدر مؤثر تھا جس قدر آج کے دور میں فلم یا ٹی وی ہے۔ آج لمحوں میں ایک فلم سارے جہاں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلم کو اب معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لئے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھنے والے جینز برانڈ ’ڈین ای زن‘ نے فلم جیسے انتہائی طاقتور ذریعے سے ایک نیا کام لینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

کمپنی نے تین مختلف کرداروں پر مشتمل ایک کامک سیریز تخلیق کی ہے جس کے تھری ڈی کردار قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے برائی کو مٹانے اور بھلائی کو پھیلانے کے لئے دن رات کوشاں نظر آتے ہیں۔ سیریز میں خاص طور سے بچوں سے بھیک منگوانے جیسے سنگین مسئلے کی ناصرف نشاندہی کی گئی ہے بلکہ اس کے خاتمے کے لئے حل بھی پیش کیا گیا ہے۔

’ڈین ای زن‘نے ’وائس آف امریکہ‘ کو اس سیریز سے متعلق مزید تفصیلات میں بتایا کہ کامک سیریز کی کہانی کے تین مرکزی کردار دانیال، میکائل اور نتاشا ہیں۔ یہ تنیوں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے کے باوجود بہت اچھے دوست بن جاتے ہیں کیونکہ ان تینوں کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا۔

تینوں نوجوان سپر ہیروز نہیں بلکہ عام طالب علم ہیں جو اچھائی پھیلانے اور برائی کے خاتمے کے لئے بہت پرعزم ہیں۔ تینوں گلی کوچوں کو محفوظ بنانے اور لوگوں کو خوش کرنے کے لئے اپنی طرف سے ہر ممکن کوششیں کرتے ہیں۔ لیکن یہ خیال رکھ کرکہ کوئی قانون نہ ٹوٹنے پائے۔

کامک سیزیز السٹریشنز بہت عمدہ اور آنکھوں کو لبھانے والی ہیں جبکہ سیریز کے ذریعے اچھائی کی دعوت اوربرائی کے خاتمے کا پیغام بہت موثر انداز میں دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG