رسائی کے لنکس

نئے قوانین کے مطابق جب انٹرنیٹ صارفین سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے ’’غلط معلومات‘‘ آگے پہنچائیں گے تو ان کے خلاف مجرمانہ کارروائی ہو سکتی ہے۔

چین نے نئے ترمیم شدہ قوانین کا نفاذ شروع کر دیا ہے جن میں انٹرنیٹ صارفین کے لیے ’’ویب پر افواہیں پھیلانے‘‘ کے لیے سزائیں بھی شامل ہیں۔

یکم نومبر سے لاگو ہونے والے نئے قوانین کے مطابق جب انٹرنیٹ صارفین ’وائبو‘ یا سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹس کے ذریعے ’’غلط معلومات‘‘ آگے پہنچائیں گے یا ان پر ایسے پیغامات شائع کریں گے جن میں ’’کسی خطرے، بیماری، قدرتی آفت یا پولیس کے بارے میں کوئی غلط معلومات ہوں گی‘‘ تو ان کے خلاف قانونی کارروائی اور سات سال تک سزا ہو سکتی ہے۔

چین میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن او بائیوفینگ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ چین کی حکومت ناقدین کو چپ کرانے کے لیے ان قوانین کا استعمال کرے گی۔

’’نئے قانون کا مقصد مخالفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو دبانا ہے۔ چین کے حکام کسی تنقید کی اجازت نہیں دیتے۔ مگر انسانی حقوق کے کارکن اور سول سوسائٹی چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے۔ نئے قانون کے تحت حکومت آزادی اظہار رائے کو مزید دبا سکے گی اور انٹرنیٹ صارفین میں خوف پیدا کر سکے گی۔‘‘

انسانی حقوق کے ایک اور کارکن وو بن نے سوال کیا کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون سی معلومات غلط ہیں اور اس کے لیے کیا معیار استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ اس بات کا فیصلہ کس طرح کیا جائے گا کہ آیا ملزم نے ’’دانستہ غلط معلومات پھیلائیں یا نہیں۔‘‘

چین میں کچھ انٹرنیٹ صارفین کو تشویش ہے کہ حکومت اس قانون کو غلط استعمال کرے گی۔ ایک صارف نے دیگر صارفین سے کہا کہ وہ ’’اپنے منہ بند رکھیں اور صرف آنکھوں سے باتیں کریں۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا کہ ’’غلط خبر اتنی دہشت انگیز نہیں۔ جو بات اصل میں دہشت انگیز ہے وہ یہ ہے کہ حکومت آپ پر افواہیں پھیلانے کا الزام عائد کرتی ہے جب آپ واضح طور پر سچ بیان کر رہے ہوں۔‘‘

کچھ کا خیال ہے کہ چین کی حکومت اور سرکاری ذرائع ابلاغ اکثر حادثات، قدرتی آفات یا پولیس آپریشنز میں ہونے والے جانی نقصان کو چھپاتے ہیں یا ان کے بارے میں غلط بیانی کرتے ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ کیا یہ قانون ان پر بھی لاگو ہو گا۔

وو بن نے کہا کہ ’’حکومت کھلے عام جھوٹ بولتی ہے اور کبھی بھی نہ اس کا احتساب کیا جاتا ہے نہ اسے سزا دی جاتی ہے۔ قانون کی نظر میں سب کو برابر ہونا چاہیئے۔ حکومت کو بھی سزا ملنی چاہیئے۔‘‘

چینی حکومت نے انٹرنیٹ پر اپنا کنٹرول بڑھایا ہے اور ’’افواہیں پھیلانے‘‘ پر کچھ انٹرنیٹ صارفین کو عبرت کا نشان بنایا ہے۔

مثلاً اس سال بیجنگ میں ایک انٹرنیٹ صارف پر یہ کہنے پر کہ اس نے جولائی میں بازار حصص گرنے کے بعد سرمایہ کاروں کو خود کشیاں کرتے دیکھ، پولیس نے افواہیں پھیلانے کا الزام لگایا اور اس کو پانچ سال کی انتظامی حراست کی سزا سنائی۔

اگست میں تیانجن میں ایک گودام میں دھماکے اور آگ لگنے کے واقعے کے بعد حکام نے جانی نقصان کے بارے کچھ نہیں بتایا مگر جب دو مقامی صارفین نے ایسے پیغامات آگے بھیجے جن میں کہا گیا تھا کہ اس واقعے میں 1,300 اموات ہوئیں تو پولیس نے انہیں غلط معلومات پھیلانے اور امن عامہ خراب کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ انہیں بھی انتظامی حراست میں بھیج دیا گیا۔

نئے قانون کے تحت ’’افواہیں پھیلانے‘‘ کی سزا تین سے سات سال تک قید ہے، جس کا انحصار حکومت پر ہے کہ اس کی نظر میں ان افواہوں کے کتنے ’’سنگین نتائج ہیں۔‘‘

گزشتہ ہفتے فریڈم ہاؤس کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، چین میں انٹرنیٹ کی آزادی پر دنیا میں سب سے زیادہ پابندیاں عائد ہیں۔

XS
SM
MD
LG