رسائی کے لنکس

نئی دہلی میگا گیمز کی سیکیورٹی کے لیے لنگوروں کے دستے

  • جمیل اختر

نئی دہلی میگا گیمز کی سیکیورٹی کے لیے لنگوروں کے دستے

نئی دہلی میگا گیمز کی سیکیورٹی کے لیے لنگوروں کے دستے

دنیا بھر میں کتوں سے سیکیورٹی اور نگرانی کاکام لینے کا رواج عام ہے لیکن غالباً ایسا پہلی بار ہورہاہے کہ نئی دہلی میں کامن ویلتھ گیمز کے موقع پر بندروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

ٹیلی گراف اور لاس اینجلس ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی کے لیے رکھنے جانے والے بندر ، لنگور نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ انتہائی تریبت یافتہ ہیں۔ انہیں بنیادی طورپر اسٹیڈیم اور کھلاڑیوں کے رہائشی علاقوں میں جنگلی بندروں اور آوارہ جانوروں کی آمدورفت روکنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

تین اکتوبر سے شروع ہونے والے کامن ویلتھ مقابلوں کے لیے ممبر ممالک کی ٹیمیں اگرچہ نئی دہلی پہنچنا شروع ہوچکی ہیں، لیکن مہمان کھلاڑیوں اور عہدے داروں کی جانب سے صحت و صفائی ، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور سیکیورٹی پر مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جارہاہے۔

حال ہی میں جنوبی افریقہ کے ایک کھلاڑی نے اپنے کمرے سے کوبرا سانپ برآمد ہونے کی شکایت کی تھی۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ مہمان ٹیمیں جنگلی بندروں سے بہت پریشان ہیں ، کیونکہ وہ غول در غول کھلاڑیوں کی بستی میں آتے ہیں اور ان کے کھانے پینے کی چیزیں اٹھا کر بھاگ جاتے ہیں۔ مہانوں کے ہاتھوں سے چیزیں چھین کر بھاگنے اور ان پر حملہ آور ہونے کے کچھ واقعات بھی سامنے آچکے ہیں۔

بندر کو ہندومذہب میں ایک مقدس جانور کا درجہ حاصل ہے اوراس کی آزادانہ نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی ۔ چنانچہ بھارت کے اکثر شہروں اور قصبوں میں بندر آزادی سے گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں اور اکثر اوقات وہ گھروں سے کھانے پینے اٹھا کر بھاگ جاتے ہیں۔ بھارتی معاشرہ اس صورت حال کا عادی ہے، لیکن کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے لیے آنے والے غیر ملکیوں کے لیے یہ چیز پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔

خبروں کے مطابق کھلاڑی یہ شکایت کرچکے ہیں کہ رہائشی علاقے میں بندروں کی آزادانہ نقل وحرکت اور چھینا جھپٹی سے ان کی پریشانی بڑھ رہی ہے ، جس سے وہ اپنے کھیل پر بھرپور توجہ نہیں دے پارہے۔

بندروں کی طرح کھلاڑیوں کے رہائشی علاقے میں بڑی تعداد میں آوارہ کتوں کی موجودگی بھی مہانوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔

اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے مقامی انتظامیہ نے بڑی تعداد میں تربیت یافتہ لنگوروں کی خدمات حاصل کی ہیں ۔ جنہیں اسٹیڈیم اور مہان ٹیموں کے رہائشی علاقوں میں بندروں، آوارہ کتوں اور جنگلی جانوروں کو ڈرا کر بھگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ آج کل اس علاقے میں بڑی تعداد میں سدھائے ہوئے لنگور دکھائی دے رہے ہیں، جو آنے والے مہمانوں کی توجہ کا خاص مرکز بن رہے ہیں۔

جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لنگور فطرتاً ذہین ہوتے ہیں۔ بہت جلد سیکھ جاتے ہیں۔ وہ اپنی حدود میں کسی دوسرے جانور کی موجودگی پسند نہیں کرتے اور اسے اپنے علاقے سے نکالنے کےلیے جارحانہ ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

بھارتی اخبار نیوزایکس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک لنگور باآسانی 20 بندروں کو بھگا سکتا ہے۔

اس سے قبل کامن ویلتھ فیڈریشن کے عہدے دار نئے رہائشی بلاکس اور اسٹیڈیم کے علاقے میں بڑے پیمانے پر ملبے اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر نکتہ چینی کرچکے ہیں۔ عہدے داروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر ٹائلٹ درست طور پر کام نہیں کررہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بجلی اور انٹرنیٹ کے مسائل کی بھی نشان دہی کی تھی۔

کھلاڑیوں کے لیے انتظامات اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کئی غیر ملکی ٹیمیں پہلے ہی شرکت سے معذرت کرچکی ہیں۔

تاہم مقامی عہدے داروں نے کہا ہے کہ وہ افتتاح سے قبل تمام خرابیاں دور کردیں گے۔

بھارت کامن ویلتھ گیمز کے انعقاد کو اپنی ترقی کی ایک مثبت تصویر پیش کرنے کے ایک موقع پر طورپر استعمال کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ لیکن کھیلوں کے آغاز سے صرف تین ہفتے قبل اسٹڈیم اور پارکنگ ایریا کو ملانے والے مرکزی پل کے گرنے ، دو غیر ملکی سیاحوں پر حملے کے واقعے، غیر ملکی کھلاڑی کے کمرے سے سانپ برآمد ہونے، جنگلی بندروں، آورہ کتوں اور دوسرے جانوروں کی بہتات، ٹریفک کے مسائل، صحت و صفائی اور ٹیموں کے لیے بنیاد ی سہولتوں سے منسلک شکایات نے اس تصویر کو دھندلادیا ہے۔

لیکن بھارتی عہدے داروں کو توقع ہے کہ متبرک جانور بندر ان کی کئی پریشان دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

XS
SM
MD
LG