رسائی کے لنکس

انہوں نوادرات جمع کرنے اور پھل دار درخت لگانے کا شوق ہے۔ پرانے فرنیچر سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ ان کے پاس 1965ء کے دورکا ایک ریڈیو بھی ہے جو ابھی تک کام کر رہا ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس کے فرائض انجام دینے کی نئی ذمے داری نامزد چیف جسٹس، جسٹس تصدق حسین جیلانی کو جمعرات کو سونپی جارہی ہے۔ ان کی تقریب حلف ِبرداری جمعرات کی صبح اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق جسٹس تصدق حسین جیلانی 6 جولائی 1949ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ملتان سے ہے۔ انہوں نے فورمین کرسچین کالج لاہور سے سیاسیات میں ایم اے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔

وہ یونیورسٹی آف لندن کے انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس لیگل اسٹڈیز سے کانسٹیٹیوشنل لاء کا کورس بھی کامیابی کے ساتھ پاس کر چکے ہیں۔ انہوں نے وکالت کا آغاز 1974ء میں ڈسٹرکٹ کورٹ ملتان سے کیا۔ وہ 1983ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل کی حیثیت سے انرول ہوئے۔

انہیں انرولمنٹ کے دس سال بعد یعنی 1993میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعینات کیا گیاجبکہ 7اگست 1994کو انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف لیا۔

وہ 31جولائی 2004ء کو سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے۔ اس کے تین سال بعد 3 نومبر2007ء کی ایمرجنسی میں انھوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تو غیر فعال کر دئیے گئے۔ تاہم ستمبر 2009ء میں انہیں بحال کر دیا گیا۔ انہیں رواں سال ہی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر بھی تعینات کیا گیا تھا۔

وہ اب تک متعدد بین الاقوامی اجلاسوں، کانفرنسز، سیمینارز اور مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ وہ مالٹا، برطانیہ، آسٹریااور امریکہ سمیت کئی ممالک کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔

تصدیق حسین جیلانی کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انہیں نوادرات جمع کرنے اور پھل دار درخت لگانے کا شوق ہے۔ پرانے فرنیچر سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ تصدق جیلانی کے پاس 1965ء کے دورکا ایک ریڈیو بھی ہے جو ابھی تک کام کررہا ہے۔
XS
SM
MD
LG