رسائی کے لنکس

عالمی ادارۂ صحت نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ہفتے انتقال کرنے والی ایک خاتون کی موت ایبولا کے باعث ہوئی تھی۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے مغربی افریقہ کو ایبولا سے پاک قرار دینے کے اگلے ہی روز خطے کے ملک سیرالیون میں ایبولا کا نیا کیس سامنے آگیا ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' نے جمعے کو ایک بیان میں سیرالیون کے حکام کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ہفتے انتقال کرنے والی ایک خاتون کی موت ایبولا کے باعث ہوئی تھی۔

حکام کے مطابق خاتون رواں ماہ کے آغاز پر بیمار پڑنے کے بعد انتقال کرگئی تھیں جن کی لاش سے لیے جانے والے نمونے سے خاتون کے ایبولا وائرس کا شکار ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

عالمی ادارے نے کہا ہے کہ ایک اور نیا کیس سامنے آنا اس حقیقت کا اظہار ہے کہ آئندہ دنوں میں سیرالیون میں ایبولا سے متاثرہ مریضوں کی سخت نگرانی اور تمام ضروری اقدامات جاری رکھنا ہوں گے تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔

ایبولا سے مرنے والے افراد کی لاشیں بھی مرض کو پھیلانے کا سبب بنتی ہیں جس کے باعث ان میتوں کی تدفین صرف حفاظتی لباس پہنے ہوئے امدادی اہلکار ہی کرتے ہیں۔

جمعرات کو عالمی ادارۂ صحت نے لائبیریا کو ایبولا سے پاک قرار دے دیا تھا جس کے بعد گزشتہ سال اس وائرس کا شکار ہونے والے تینوں مغربی افریقی ملکوں سے وائرس کے مکمل خاتمے کا ہدف حاصل کرلیا گیا تھا۔

عالمی ادارے نے خطے کے دیگر دو ملکوں سیرالیون اور گنی کو بالترتیب 7 نومبر اور 29 دسمبر کو ایبولا سے پاک قرار دیا تھا جس کے بعد صرف لائبیریا ہی وائرس سے متاثرہ ملک بچا تھا۔

عالمی ادارے کے قواعد کے مطابق کسی بھی ملک کو ایبولا کے وائرس سے مکمل پاک قرار دینے کے لیے 42 دن کا وقت مقرر ہے جس کے دوران مزید کوئی کیس سامنے نہ آنے پر وائرس کو غیر موثر سمجھ لیا جاتا ہے۔

لائبیریا کو اس سے قبل بھی دو بار، مئی 2015 اور نومبر 2015ء میں ایبولا سے پاک قرار دیا گیا تھا لیکن دونوں بار وائرس کے مزید کیسز سامنے آگئے تھے۔

دسمبر 2013ء میں مغربی افریقہ میں پھیلنے والے ایبولا وائرس کے نتیجے میں 11 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG