رسائی کے لنکس

موجودہ حکومت اور حزب مخالف کو نئی حکومت میں شامل ہونا چاہیئے: صدر اسد


بشار الاسد (فائل فوٹو)

بشار الاسد (فائل فوٹو)

سفارتکاروں کو امید ہے کہ اگست تک عبوری حکومت اور نئے آئین کے مسودے پر اتفاق رائے پیدا ہو سکے گا۔ بدھ کو صدر اسد نے کہا کہ ’’چند ہفتوں میں‘‘ آئین کا ایک ابتدائی مسودہ تیار کیا جا سکے گا۔

شام کے صدر بشار الاسد نے ملک میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں امید کا اظہار کیا ہے۔

بدھ کو روس کے سرکاری خبررساں ادارے ’آر آئی اے‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں ایسی حکومت قائم ہونی چاہیئے جس میں حزب اختلاف کے نمائندے اور ان کی حکومت کے عہدیدار شامل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ’’یہ منطقی بات ہے کہ آزاد طاقتوں، حزب مخالف اور ریاست سے وفادار فورسز کو‘‘ نئی حکومت میں نمائندگی حاصل ہو۔ ’’یہ جنیوا اور بین الاشامی مذاکرات کا مقصد ہے جس میں ہم حکومت کی ساخت پر اتفاق رائے پیدا کریں گے۔‘‘

ٹکڑوں میں شائع ہونے والے انٹرویو میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ صدر اسد حزب اختلاف کے کس گروپ کا حوالہ دے رہے ہیں۔ اسد نے اپنے مستقبل کے بارے میں بھی کوئی بات نہیں کی جس پر فریقین کے درمیان سخت اختلاف ہے۔

صدر اسد نے تسلیم کیا کہ کچھ تکنیکی معاملات پر ابھی اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا جن میں نئی حکومت میں ہر فریق کے کردار کا معاملہ شامل ہے۔ ’’تاہم یہ مشکل معاملات نہیں ۔۔۔ انہیں حل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ شام میں خانہ جنگی ختم کرانے کے لیے جنیوا میں امن مذاکرات کروا رہی ہے۔ اس جنگ میں اب تک تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لاکھوں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے جبکہ ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس وقت مذاکرات کے عمل میں وقفہ آیا ہے مگر سفارتکاروں کو امید ہے کہ اگست تک عبوری حکومت اور نئے آئین کے مسودے پر اتفاق رائے پیدا ہو سکے گا۔ بدھ کو صدر اسد نے کہا کہ ’’چند ہفتوں میں‘‘ آئین کا ایک ابتدائی مسودہ تیار کیا جا سکے گا۔

پچھلے چند ہفتوں میں عالمی کوششوں سے نافذ کی جانے والی جنگ بندی کے دوران تشدد کے واقعات میں بہت کمی آئی ہے۔

صدر اسد کے حامی روس نے بھی حال ہی میں شام سے اپنی بیشتر فوجوں کو واپس بلا لیا ہے۔

شامی فورسز نے جنگ میں توقف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں جو جنگ بندی کے معاہدے میں شامل نہیں۔

گزشتہ ہفتے شامی فورسز نے روسی فضائی کارروائیوں کی مدد سے اہم شہر پالمیرہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ شامی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ پالمیرہ سے داعش کے زیر قبضہ دیگر علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

صدر اسد نے کہا کہ جب ملک میں استحکام پیدا ہو جائے گا تو بھی شام ناصرف دہشت گردی سے جنگ بلکہ علاقائی استحکام کے لیے روس سے فوجی مدد حاصل کرتا رہے گا۔

XS
SM
MD
LG