رسائی کے لنکس

دریافت ہونے والی اس نسل کو لیتھروناکس آرجیسٹس کا نام دیا گیا ہے اور یہ ٹریئناسارس ریکس سے ملتی جلتی ہے۔

طبقات الارض میں جانوروں کے ڈھانچے اور دیگر آثار تلاش کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اُنھیں امریکہ کی مغربی ریاست یوٹا میں ٹائریناسار کی ایک نئی نسل کے باقیات ملی ہیں۔

دریافت ہونے والی اس نسل کو لیتھروناکس آرجیسٹس کا نام دیا گیا ہے اور یہ ٹریئناسارس ریکس سے ملتی جلتی ہے۔ ٹریئناسارس ریکس یا ٹی ریکس ڈائنوسار کی مشہور قسم ہے اور اس عظیم الجثہ جانور کا جبڑا بڑا اور انتہائی طاقتور تھا جب کہ اس کی انگلی دو ٹانگیں چھوٹی تھیں اور یہ پچھلی دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا کرتا تھا۔

لیتھروناکس آرجیسٹس کی متعدد خصوصیات ہیں، جن میں چھوٹی اور پتلی تھوتھنی، چپٹی کھوپڑی اور سامنے کی طرف دیکھنے والی آنکھیں شامل ہیں۔

لیتھروناکس کا ترجمہ کنگ آف گور (زخم سے بہنے والا گاڑھا خون) جب کہ لفظ آرجیسٹس امریکہ کے جنوب مغربی حصے کی نشان دہی کرتا ہے۔

اس دریافت سے قبل ماہرین کا خیال تھا کہ چوڑی کھوپڑی والے اس قسم کے ٹریئناسارس سات کروڑ سال پہلے سامنے آئے، جب کہ لیتھروناکس سے پتا چلتا ہے کہ اس کا ارتقاء اس سے بھی کم از کم ایک کروڑ برس قبل ہوا تھا۔

لیتھروناکس کی اونچائی اندازاً آٹھ میٹر اور اس کا وزن لگ بھگ ڈھائی ٹن تھا۔

لیتھروناکس کی دریافت گرینڈ اسٹیئرکیس ایسکلانٹے نیشنل مانیومنٹ میں ہوئی جو یوٹا کے جنوب وسطی حصے میں 19 لاکھ ایکڑ ریگستانی رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

اس دریافت کا اعلان رواں ہفتے کیا گیا جب کہ لیتھروناکس کی باقیات کو سالٹ لیک سٹی میں قائم نیچرل ہسٹری میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG