رسائی کے لنکس

قبائلی علاقے میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کا نیا قانونی ڈھانچہ نافذ

  • شہناز نفیس

قبائلی علاقے میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کا نیا قانونی ڈھانچہ نافذ

قبائلی علاقے میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کا نیا قانونی ڈھانچہ نافذ

مشتبہ دہشت گردوں کو غیر معینہ عرصے کے لیے زیرِ حراست رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان۔ نئے ریگولیشن سے نہ صرف دہشت گردوں کا راستہ روکنے بلکہ اُنھیں کیفرِ کردار تک پہنچانے میں بھی مدد ملے گی: تجزیہ کار

وفاقی اور صوبائی زیرِانتظام قبائلی علاقوں میں پاکستانی ریاست اور اُس کے عوام کے خلاف پُر تشدد کارروائیوں میں ملوث افراد پر قانونی ضابطہ لاگو کرنے کی غرض سے حکومتِ پاکستان نے ایک قانون سازی وضع اور نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صدرِ پاکستان کے دستخط سے جاری ہونے والی اِس قانون سازی کوRegulations Action in Aid of Civil Powers 2011for FATA & PATAکا نام دیا گیا ہے ۔

’وائس آف امریکہ‘ کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام ’راؤنڈ ٹیبل‘ میں شرکت کرتے ہوئے، ماہرِ قانون اور خیبر پختونخواہ کی حکمراں جماعت، عوامی نیشنل پارٹی کے سکریٹری اطلاعات ، لطیف آفریدی نے بتایا کہ اِس نئے ضابطے کے تحت پاکستانی فوج کو ایک نئے فریم ورک کے اندر، فاٹا اور پاٹا میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کے مؤثراختیارات مل گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومتی عہدے دار چاہیں تو اپنے علاقوں میں فوجی کارروائی کا مطالبہ کرسکتے ہیں اور پاکستانی فوجیوں کواختیار حاصل ہوگا کہ وہ جتنی مدت درکار ہو مشتبہ دہشت گردوں کو اپنی حراست میں رکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب، اسلام آباد سے وفاقی عدالتی اکیڈمی کے ترجمان، ہاشم ابڑو اور خیبر پختونخواہ سے حکمراں جماعت کے سکریٹری اطلاعات ارباب محمد طاہر نے صدر آصف علی زرداری کے اِس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اِس نئے ریگولیشن سے نہ صرف دہشت گردوں کا راستہ روکنے بلکہ اُنھیں کیفرِ کردار تک پہنچانے میں بھی مدد ملے گی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) سے منسلک، کامران عارف نے نئے ریگولیٹری بِل کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آرمی کو انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے ’لیگل فریم ورک‘ دینا ایک اچھا اقدام ہے۔

تاہم، کامران عارف کے مطابق، مشتبہ دہشت گردوں کو غیر معینہ عرصے کے لیے زیرِ حراست رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

دوسری جانب، سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق نائب صدر، بیرسٹر باچا کے مطابق، اِس نئے ریگولیٹری بِل سے انتہا پسندی کو فروغ ملے گا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG